وقت آ گیا ہے کہ گرین لینڈ سے "روسی خطرے" کو دور کیا جائے اور یہ ہو کر رہے گا : ٹرمپ
یورپی ممالک کا گرین لینڈ کے حوالے سے ٹرمپ کی دھمکیوں کے سامنے متحد موقف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ڈنمارک ... گرین لینڈ سے "روسی خطرے" کو دور کرنے کے لیے کچھ نہیں کر سکا۔ ٹرمپ کے مطابق "اب اس کا وقت آ گیا ہے اور یہ ہو کر رہے گا"۔
امریکی صدر نے بارہا اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر اپنے ملک کی ملکیت سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوں گے۔ گرین لینڈ، ڈنمارک کے زیرِ انتظام ایک خود مختار علاقہ ہے، جبکہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے رہنماؤں کا اصرار ہے کہ یہ جزیرہ فروخت کے لیے نہیں ہے اور نہ امریکہ کا حصہ بننے کی کوئی خواہش موجود ہے۔
ان آٹھ یورپی ممالک نے، جنہیں امریکی صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضے کے عزائم کی مخالفت کرنے پر اضافی تجارتی محصولات (ٹیرف) کی دھمکی دی تھی، اتوار کو اپنے متحد موقف کی توثیق کی۔ دوسری جانب یورپی یونین ممکنہ جوابات پر غور کر رہی ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اتوار کی شام برسلز میں یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے سفیروں کا ہنگامی اجلاس شروع ہوا۔ اگرچہ اس اجلاس سے فوری نتائج کی توقع نہیں ہے، تاہم یہ ٹرمپ کی نئی دھمکیوں کے جواب میں مختلف آراء کے تبادلے کا موقع فراہم کرے گا۔
اسی دوران ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ نے ناروے، برطانیہ اور سویڈن کا سفارتی دورہ شروع کیا ہے، جو کہ نیٹو کے اتحادی ممالک ہیں۔ اس دورے کا مقصد قطب شمالی کے خطے کی سکیورٹی میں نیٹو کے کردار کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ ناروے کے دورے کے دوران راسموسن نے متنبہ کیا کہ عالمی نظام اور نیٹو کا "مستقبل" داؤ پر لگا ہوا ہے۔
برطانیہ، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، ہالینڈ، ناروے اور سویڈن نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ "تجارتی محصولات کی دھمکیاں ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو کمزور کرتی ہیں اور سنگین بگاڑ کا پیش خیمہ ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم اپنے رد عمل میں متحد اور مربوط رہیں گے اور اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں"۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز اس وقت اپنے لہجے میں سختی پیدا کی جب ڈنمارک کی مشقوں کے فریم ورک کے تحت یورپی فوجیوں کو جزیرے پر بھیجا گیا۔ انہوں نے اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر لکھا "ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، ہالینڈ اور فن لینڈ نا معلوم مقاصد کے لیے گرین لینڈ گئے۔ یہ ممالک جو یہ خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں، انہوں نے ایسے خطرے کا راستہ اپنایا ہے جو ناقابلِ قبول اور ناقابلِ برداشت ہے"۔
ایک سال قبل دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے، ٹرمپ شمالی امریکہ اور یورپ کے درمیان واقع اس وسیع جزیرے پر قبضے کی مسلسل بات کر رہے ہیں۔ وہ اس کا جواز آرکٹک خطے میں روس اور چین کی پیش قدمی کے تناظر میں قومی سکیورٹی کے تحفظ کو قرار دیتے ہیں۔
ٹرمپ بین الاقوامی تعلقات میں بڑے پیمانے پر تجارتی پابندیوں کا ہتھیار استعمال کر رہے ہیں، بشمول واشنگٹن کے روایتی شراکت داروں کے خلاف۔ تاہم، ہفتے کے روز محصولات سے متعلق ان کا فیصلہ ایک نہایت غیر معمولی اقدام ہے۔ امریکہ، جو نیٹو کا بنیادی ستون ہے، اپنے ہی اتحادیوں کو ایک ساتھی ملک کے علاقے پر قبضے کے لیے پابندیوں کی دھمکی دے رہا ہے۔
ہفتے کے روز ہزاروں افراد نے، خاص طور پر کوپن ہیگن اور گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں، ان علاقائی عزائم کے خلاف مظاہرہ کیا اور "گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے" کے نعرے لگائے۔
-
گرین لینڈ کے باعث ٹرمپ کی جانب سے کسٹم ڈیوٹیز کے جواب میں یورپی سربراہی اجلاس
اسٹامر نے امریکی صدر سے کہا نیٹو کے اراکین پر کسٹم ڈیوٹیز عائد کرنا غلط ہے
بين الاقوامى -
یورپ بہت کمزور، گرین لینڈ کا دفاع نہیں کر سکتا: امریکی وزیرِ خزانہ
واشنگٹن گرین لینڈ کے الحاق کا ارادہ ترک نہیں کرے گا، یہ عمل کریمیا کے الحاق جیسا ...
بين الاقوامى -
آٹھ یورپی ممالک کا ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ اظہار یکجہتی
ڈنمارک کے ملکیتی جزیرے گرین لینڈ پر امریکہ کے کنٹرول سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ...
بين الاقوامى