فلپائنی جڑواں بچے "اولیویا اور جیانا" منیلا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ریاض کے لیے روانہ ہو گئے ہیں تاکہ سعودی عرب میں ان کو الگ کیے جانے کا آپریشن کیا جا سکے۔ یہ اقدام خادم حرمین شریفین شاہ سلمان اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے اس شعبے میں مخصوص سعودی پروگرام کے تحت کیا جا رہا ہے۔
سفارت خانے کی جانب سے روانگی کے طریقہ کار کے وقت سیکنڈ سیکرٹری محمد الخضیری اور پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ عمرو الیاس موجود تھے۔ یہ عمل کنگ سلمان ریلیف اینڈ ہیومینٹیرین ایڈ سینٹر کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے مکمل کیا گیا۔ یہ نسٹر جو بیرون ملک سے آنے والے طبی کیسز کی منتقلی کے انتظامات کی نگرانی کرتا ہے۔ یہ مملکت کی جانب سے جدید ترین طبی نگہداشت کی فراہمی میں اس کے انسانی ہمدردی کے کردار کا ایک حصہ ہے۔
فلپائنی جڑواں بچوں کی آمد جڑواں بچوں کو الگ کرنے کی جراحت میں سعودی عرب کے سرخیل تجربے کا تسلسل ہے۔ سعودی پروگرام اس شعبے میں دنیا کے نمایاں ترین طبی پروگراموں میں سے ایک ہے۔ اس پروگرام کے تحت گزشتہ 35 سالوں کے دوران 28 ملکوں سے تعلق رکھنے والے جڑواں بچوں کے 67 کامیاب آپریشن کیے جا چکے ہیں۔ اس پروگرام سے سعودی عرب کی ساکھ ایک ایسی طبی اور انسانی منزل کے طور پر مستحکم ہوئی ہے جو انتہائی باریک بین اور پیچیدہ آپریشنز انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ اقدام دنیا بھر میں انسانی کیسز کی حمایت کرنے کے حوالے سے سعودی عرب کے اس طرزِ عمل کی توثیق کرتا ہے جس میں طبی مہارت اور انسانی ذمہ داری کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر جدید طب اور انسانی ہمدردی کے کاموں میں ایک قائد ملک کے طور پر سعودی عرب کا تشخص مضبوط ہوا ہے۔