آخری اسرائیلی قیدی کی باقیات کی بازیابی کے بعد شرق اوسط میں نئے دور کی شروعات ہو رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ غزہ سے آخری اسرائیلی زیرِ حراست فرد کی باقیات کی واپسی ایک دردناک باب کے اختتام کی علامت ہے اور یہ ایک ایسے نئے مستقبل کی راہ ہموار کرتی ہے جہاں جنگ کے بجائے امن اور تباہی کے بجائے ترقی ہوگی۔

اسٹیو وٹکوف نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ اب تمام بیس زندہ یرغمالی اور ہلاک ہونے والے تمام اٹھائیس قیدیوں کی لاشیں ان کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ ان کے بقول یہ ایک عظیم اور تاریخی کامیابی ہے جس کی توقع بہت کم لوگوں کو تھی۔

انہوں نے اس پیش رفت کا سہرا دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی کئی افراد کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کاوشوں کا جو امن کے لیے مسلسل اور بے تکان کام کر رہے ہیں۔

امریکی ایلچی نے مزید کہا کہ یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی صبح کا آغاز ہے اور صدر ٹرمپ میں خود اور پوری ٹیم خطے میں سب کے لیے پائیدار امن اور خوشحالی کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ غزہ میں ایک قبرستان سے تقریباً 250 لاشوں کی جانچ کے بعد آخری اسرائیلی قیدی کی لاش برآمد کر لی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں