امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک حکم نامے پر دستخط کیے جس میں کیوبا کو تیل فروخت کرنے والے ممالک پر اضافی محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی گئی۔ اس سے کمیونسٹ حکومت کے زیرِ قیادت جزیرے پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
حکم نامے میں ٹیرف کی قیمت یا اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کن ممالک کو نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ تعین انہوں نے اپنے سیکریٹری تجارت پر چھوڑ دیا ہے۔
کیوبا جو 1962 سے بہت حد تک امریکی پابندیوں کے تحت رہا ہے، حال ہی میں اپنا زیادہ تر تیل وینزویلا سے حاصل کرتا ہے۔
لیکن ہوانا کے اہم اتحادی نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے اور وینزویلا کے تیل کی برآمدات پر مؤثر طریقے سے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد امریکہ نے اسے روک دیا ہے۔
وینزویلا کارروائی کے بعد ٹرمپ نے کیوبا جانے والا تیل اور پیسہ مکمل طور پر بند کرنے کا عزم کیا۔
"میں سختی سے مشورہ دیتا ہوں کہ وہ ایک معاہدہ کریں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے،" انہوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں دھمکی دی۔
امریکہ اس معاملے پر خاموش ہے کہ وہ جزیرے کی کمیونسٹ حکومت کے ساتھ کس قسم کے معاہدے کا خواہاں ہے۔
ہوانا کے وزیرِ خارجہ برونو روڈریگز نے جمعرات کو ایکس پر ایک پوسٹ میں تازہ ترین پیش رفت کو "کیوبا اور اس کے عوام کے خلاف جارحیت کا وحشیانہ اقدام قرار دیا جو 65 سال سے زائد عرصے سے مسلط کردہ طویل ترین اور ظالمانہ اقتصادی ناکہ بندی کا شکار ہیں۔"
جمعرات کو دستخط کردہ حکم نامے میں کسی بھی ایسے ملک پر اضافی محصولات کی دھمکی دی گئی ہے جو "کیوبا کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر تیل فروخت کرے یا کسی اور صورت میں فراہم کرے"۔
حکم نامے میں انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) نافذ کیا گیا اور کیوبا کی حکومت کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ایک "غیر معمولی خطرہ" قرار دیا گیا ہے۔
آئی ای ای پی اے کے نافذ کردہ دیگر محصولات کو فی الحال سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔
کیوبا سے متعلق "قومی ہنگامی صورتِ حال" کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف کیے جانے والے دعووں سے مشابہ دعوے کیے مثلاً امریکہ سے دشمنی کرنے والے ممالک کو مدد فراہم کرنا۔
حکم نامے میں کہا گیا، "یہ حکومت کئی معاندانہ ممالک، بین الاقوامی دہشت گرد گروپوں اور امریکہ کے لیے منفی کردار ادا کرنے والے عناصر کی حمایت اور انہیں مدد فراہم کرتی ہے" جن میں روس، چین اور ایران کے ساتھ ساتھ عسکریت پسند گروپوں حماس اور حزب اللہ شامل ہیں۔
کمیونسٹ جزیرہ اس وقت کئی عشروں میں اپنے بدترین معاشی بحران سے دوچار ہے جس کی وجہ دن میں 20 گھنٹے تک بجلی کی بندش اور خوراک اور ادویات کی کمی ہے جو کیوبا سے وسیع پیمانے پر اخراج کی وجہ بنی ہے۔ انہی حالات کے دوران یہ نئی پیش رفت ہوئی ہے۔
امریکہ کا ہمسایہ میکسیکو کیوبا کو تیل فراہم کرنے والا ایک اہم ملک بن گیا ہے حالانکہ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے دباؤ میں ترسیل سست ہو سکتی ہے۔
اس ہفتے کے شروع میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے نہ تو ان اطلاعات کی تصدیق کی اور نہ ہی تردید لیکن کہا کہ میکسیکو کیوبا کے ساتھ "یکجہتی کا اظہار جاری رکھے گا"۔