انڈونیشیا کے حکام نے کہا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے انتہائی ناخوشگوار واقعے میں ہونے والے جانی نقصان میں مزید اضافہ ہوا ہے اور اب تک ہلاکتوں کی تعداد 74 ہوگئی ہے۔ حکام نے یہ بات جمعہ کے روز کہی۔
حکام کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کا یہ سلسلہ دو ہفتوں سے جاری ہے۔ ریسکیو ٹیمیں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث دب جانے والی لاشوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
یاد رہے انڈونیشیا کے صوبے جاوا میں بارش کے بعد پہاڑ سے لینڈ سلائیڈنگ شروع ہوگئی۔ لینڈ سلائیڈنگ کا یہ سلسلہ 24 جنوری سے اب تک جاری ہے۔ اس لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں درجنوں گھر تباہ ہوئے اور سینکڑوں افراد لاپتہ ہوگئے ہیں۔
جاوا کے صوبے میں حادثے کا شکار ہونے والا یہ گاؤں مغربی بینڈنگ میں واقع ہے۔ جہاں پولیس اور فوج کے اہلکاروں کے علاوہ سینکڑوں ریسکیو کارکن بھی لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ریسکیو ٹیموں کے رضاکار سلائیڈنگ کی ٹنوں کے حساب سے مٹی اور پتھروں کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ تباہ شدہ گھروں کا ملبہ بھی ہٹا رہے ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں اس مقصد کے لیے بھاری آلات اور مشینری استعمال کر رہی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق اب تک ملنے والی 74 لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے۔ تاہم اب بھی بہت سے لوگ لاپتہ ہیں جن کے لیے کوششیں جاری ہیں کہ ان کو تلاش کیا جا سکے۔
دوسری طرف ریسکیو ٹیم کے عہدیدار کا یہ بھی کہنا ہے کہ موسمی شدت ابھی بھی جاری ہے اور اس وجہ سے حد نگاہ بعض علاقوں میں کم ہے کیونکہ دور تک گہری دھند چھائی ہوئی ہے جو ریسکیو کے کاموں میں ایک چیلنج کے طور پر سامنے ہے۔