بنگلہ دیش کی خواتین کا انتخابات میں نمائندگی کے لیے مارچ
انتخابات میں خواتین امیدوار صرف چار فیصد ہیں
بنگلہ دیشی خواتین نے آئندہ انتخابات میں انصاف اور سیاسی نمائندگی کا مطالبہ کرنے کے لیے پیر کو نصف شب ڈھاکہ کی سڑکوں پر جلتی ہوئی مشعلیں لے کر مارچ کیا۔
خواتین جنوبی ایشیائی ملک کے سیاسی میدان سے بہت حد تک خارج ہو جانے کے دہانے پر ہیں حالانکہ انہوں نے 2024 میں ہونے والی بغاوت کی سربراہی میں مدد کی تھی جس نے جمعرات کو ہونے والے انتخابات کی راہ ہموار کی۔
خواتین امیدوار انتخابی امیدواروں میں سے چار فیصد سے بھی کم ہیں جبکہ اس ہفتے کے اتنخابات میں حصہ لینے والی 30 جماعتوں نے صرف مردوں کے لیے ٹکٹ رکھے ہیں۔
سپریم کورٹ کی ایک وکیل 31 سالہ پریا احسن چودھری نے پارلیمنٹ کے سامنے نعرے لگائے اور گانا گاتے ہوئے تقریباً 100 خواتین کے ساتھ شامل ہوئیں۔ انہوں نے کہا، "جو بھی حکومت ہو، خواتین پر جبر کئی مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ بعض جگہوں پر ہم نے خواتین کی کوئی نمائندگی نہیں دیکھی ہے - صرف مرد ہیں۔ یہی چیز ہمیں باہر آنے اور بولنے پر مجبور کرتی ہے۔"
اتوار کو نصف شب شروع ہونے اور پیر کے اوائل میں ختم ہونے والا یہ مارچ بڑھتے ہوئے اشتعال انگیز بیانات اور خواتین کو عوامی زندگی سے باہر دھکیلنے کی بڑھتی ہوئی کوششوں کے پس منظر میں آیا۔ مذہبی اور سیاسی ریلیوں میں ان بیانات میں انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔
بارہ فروری کو ہونے والا ووٹ شیخ حسینہ کی آمرانہ حکومت کے خاتمے کے بعد پہلا الیکشن ہو گا۔
ٹیک گلوبل انسٹی ٹیوٹ تھنک ٹینک کی سربراہ اور 38 سالہ احتجاجی صبحناز راشد دیا نے کہا، "عوامی بغاوت انصاف اور مساوات پر مبنی ملک کی تعمیر کرنے کی خواہش رکھتی تھی لیکن خواتین کو عوامی حلقوں سے آہستہ آہستہ مٹایا جا رہا ہے۔"
نیز کہا، "اور اب جبکہ ہم دوبارہ ایک نئے ملک کی تعمیر کا خواب دیکھ رہے ہیں تو سیاسی جماعتوں نے جہاں کبھی خواتین کلیدی کردار ادا کرتی تھیں، انہیں انتخابی دوڑ میں بہت حد تک پیچھے چھوڑ دیا ہے۔"
بنگلہ دیش کی قیادت طویل عرصے سے طاقتور خواتین کر رہی ہیں جن میں حسینہ اور تین بار وزیرِ اعظم رہنے والی ان کی دیرینہ حریف مرحومہ خالدہ ضیا بھی شامل ہیں۔
بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اور انتہا پسند سیاسی جماعت جماعتِ اسلامی نے کوئی خواتین امیدوار نہیں اتاری ہیں جبکہ اس کے اراکین کا خیال ہے کہ معاشرہ سیاست میں خواتین کے لیے تیار نہیں ہے۔