سرمائی اولمپکس، اطالوی خاتون سکیئر کے جیتنے پر چھوٹا بیٹا توجہ کا مرکز بن گیا

لولوبریجیڈا تین ہزار میٹر سپیڈ سکیٹنگ میں گولڈ میڈل جیتنے کے بعد اپنے ڈھائی سالہ بیٹے "توماسو" کی طرف دوڑیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

گزشتہ دو دنوں کے دوران سوشل میڈیا میلانو شہر کی ایک ویڈیو میں مصروف رہا جہاں میلانو- کورٹینا 2026 سرمائی کھیلوں کا انعقاد کیا گیا۔ میلانو اولمپکس میں فرانسسکا لولوبریجیڈا کے 3000 میٹر سپیڈ سکیٹنگ میں گولڈ میڈل جیتنے کے بعد وہ عوام کے بڑے جشن کے درمیان اپنے ڈھائی سالہ بیٹے "توماسو" کو گلے لگانے کے لیے براہ راست اس کی طرف دوڑیں۔

جب گولڈ میڈل جیتنے والی کھلاڑی ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں ایک صحافی سے بات کر رہی تھیں تو ان کے چھوٹے بچے نے ساری توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ وہ کبھی ہاتھ سے انہیں روک کر خاموش کرواتا اور کبھی مائیکروفون سے کھیلنے کی کوشش کرتا۔ یہاں تک کہ بات یہاں ختم ہوئی کہ اس نے انہیں خاموش کروانے کے لیے ’’ نہیں نہیں ماما‘‘ چلانا شروع کر دیا اور پھر ان کی ٹوپی چھین لی۔

ٹرینڈ بن گیا

جیت کا یہ لمحہ ایک دلچسپ "ٹرینڈ" میں بدل گیا اور یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ بہت سے مبصرین نے تمام مواقع پر اپنے بچوں کے ساتھ ماؤں کی جدوجہد کی تصدیق کی۔ ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ ماؤں کا یہی حال ہوتا ہے۔ دوسروں نے ان کے صبر اور حوصلے کی تعریف کی کیونکہ انہوں نے اپنے بچے کو ڈانٹا یا برا بھلا نہیں کہا۔

واضح رہے لولوبریجیڈا نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ کھیلوں کے مقابلوں میں ان کے بیٹے کی موجودگی ان کے لیے طاقت کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے زور دیا تھا کہ وہ اس کے لیے جیتنا چاہتی تھیں تاکہ وہ ایک دن ان پر فخر کر سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں