صدر: 'غیر معمولی' مخالفت کے باوجود انڈونیشیا میں مفت کھانے کا پروگرام جاری رہے گا

پروگرام شروع ہونے کے بعد سے کم از کم 15,000 بچے بیمار، ملکی وسائل کے استعمال پر سوالات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے جمعہ کے روز کہا کہ وہ مفت کھانے کے پروگرام کے خلاف چلائی گئی "غیر معمولی" مہم کے باوجود اسے جاری رکھیں گے اور مزید کہا کہ اس کی مالی اعانت بجٹ کی بہتر کارکردگی کے اقدامات سے ہو رہی ہے۔

"ہم یہ پروگرام نافذ کریں گے،" پرابوو نے جکارتہ میں نیشنل پولیس کے ماتحت چلنے والے مفت کھانے کے باورچی خانے کا آغاز کرتے ہوئے کہا۔

"ہمیں غیر معمولی مہم کا سامنا ہو گا جس میں کہا گیا کہ میں پیسہ ضائع کر رہا تھا،" انہوں نے مزید کہا۔

انڈیکس فراہم کرنے والے ایم ایس سی آئی نے سٹاک مارکیٹ کی شفافیت سے متعلق ایک انتباہ جاری کیا جس کے بعد جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت بحران کا شکار ہے اور اثاثہ جات کی تیز رفتار فروخت کے باعث مارکیٹ کی قیمت 120 بلین ڈالر تک کم ہو گئی۔

کچھ دن بعد موڈیز نے انڈونیشیا کی حکومت اور اس کی بعض کمپنیوں کے لیے بانڈ کی درجہ بندی منفی کر دی۔

سرمایہ کاروں نے پرابوو کے مہنگے منصوبوں بشمول 20 بلین ڈالر مفت کھانے کی سکیم پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ کہیں اور سے ہونے والی بچت یہ یقینی بنائے گی کہ انڈونیشیا اپنے مالیاتی خسارے میں قومی پیداوار کے تین فیصد کی حد کے اندر رہے۔

"ہم اسی پر پیسہ بچا رہے ہیں، اسی کا رخ موڑ رہے ہیں۔ ہمارا ریاستی بجٹ ہمارے مقرر کردہ پیمانوں سے زیادہ نہیں ہے،" انہوں نے کہا۔

گذشتہ سال جنوری میں اس پروگرام کے آغاز کے بعد سے ملک بھر میں کم از کم 15,000 بچے زہر خورانی کے نتیجے میں بیمار ہو چکے ہیں۔

تقریب کے دوران پرابوو نے کہا کہ متأثرہ بچوں کی شرح کم تھی اور اس بات پر زور دیا کہ مجموعی طور پر سکیم "کامیاب" ہوئی تھی جس میں جمعہ تک 60 ملین افراد نے مفت کھانا وصول کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں