فلسطینی طالبِ علم کو ملک بدر کرنے کی ٹرمپ کی کوشش، امیگریشن جج نے رہا کر دیا

امریکی شہریت کے لیے انٹرویو دینے پہنچے تو طالبِ علم کو گرفتار کر لیا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک امریکی امیگریشن جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی کولمبیا یونیورسٹی کے طالبِ علم محسن مہدوی کو ملک بدر کرنے کی کوششیں مسترد کر دی ہیں جنہیں گذشتہ سال فلسطینی حامی مظاہروں میں شرکت کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ ایک عدالت اس فیصلے کا جائزہ لے رہی تھی جس کی بدولت امیگریشن کی حراست سے رہائی ملی۔

یہ تازہ ترین کیس تھا جس میں ایک امیگریشن جج نے وہ مقدمہ مسترد کر دیا جو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کیمپس میں سرگرم فلسطینی یا اسرائیل مخالف خیالات رکھنے والے غیر ملکی طلباء کو حراست میں لینے اور ملک بدر کرنے کی وسیع تر کوششوں کے حصے کے طور پر لایا گیا تھا۔

چیلمسفورڈ، میساچوسٹس میں مقیم امیگریشن جج نینا فروز نے 13 فروری کو ایک فیصلے میں لکھا کہ امریکی محکمہ داخلی سلامتی یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ مذکورہ طالبِ علم نکالے جانے کے قابل تھا۔ مہدوی نے ایک بیان میں کہا، "خوف نے جسے تباہ کرنے کی کوشش کی یعنی: امن و انصاف کے لیے بات کرنے کا حق، یہ فیصلہ اس حق کو برقرار رکھنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔"

انتظامیہ کے پاس جج کے فیصلے کو بورڈ آف امیگریشن اپیلز کے سامنے چیلنج کرنے کا اختیار ہے۔ یہ بورڈ امریکی محکمہ انصاف کا حصہ ہے۔

مغربی کنارے کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدائش اور پرورش پانے والے مہدوی کو اپریل 2025 میں گرفتار کیا گیا تھا جب وہ امریکی شہریت کی درخواست کے لیے انٹرویو دینے پہنچے۔ ایک جج نے فوری طور پر ٹرمپ انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں امریکہ سے ملک بدر نہ کرے یا انہیں ریاست ورمونٹ سے باہر نہ لے جائے۔

دو ہفتے بعد جب امریکی ڈسٹرکٹ جج جیفری کرافورڈ نے ان کی رہائی کا حکم دیا تو مہدوی برلنگٹن، ورمونٹ میں وفاقی عدالت سے باہر نکلے۔

گذشتہ مہینے بوسٹن میں ایک وفاقی جج نے فیصلہ دیا کہ انتظامیہ نے مہدوی جیسے سکالرز کو حراست میں لینے اور ملک بدر کرنے کی غیر قانونی پالیسی اپنا رکھی ہے جس سے یونیورسٹیز میں غیر ملکی ماہرینِ تعلیم کی آزادی رائے سلب ہو گئی ہے۔ محکمہ انصاف اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں