قطائف صرف ایک لذیذ مٹھائی ہی نہیں جو رمضان کے دسترخوان کی زینت بنتی ہے، بلکہ یہ ایک بھرپور ثقافتی تاریخ کی نمائندہ بھی ہے، جو مختلف ادوار کی جھلک پیش کرتی ہے۔ یہ مٹھائی عربی ورثے میں گہری جڑیں رکھتی ہے اور ماہِ رمضان سے خاص طور پر جڑی ہوئی ہے۔
قطائف کی اصل کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق اس کی ابتدا اموی دور میں ہوئی اور ممکن ہے کہ یہ کنافہ سے بھی پہلے وجود میں آئی ہو۔
کہا جاتا ہے کہ اس کی ایجاد اموی عہد کے آخری زمانے یا عباسی دور کے آغاز میں ہوئی، جب یہ ایک مقبول مٹھائی تھی۔جبکہ دیگر روایات یہ بھی بتاتی ہیں کہ اس کا تعلق فاطمی دور سے بھی ہو سکتا ہے۔
نام کے پس منظر
قطائف کی ابتدا ایک مٹھائی کے طور پر ہوئی جو مغز یا خشک میوہ جات سے بھری جاتی اور دلکش انداز میں سجائی جاتی، تاکہ مہمان اسے براہِ راست مواقع پر چن کر کھا سکیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسے ''قطائف ''کا نام ملا، جو عربی لفظ ''قطف ''یعنی چننا یا توڑنا سے ماخوذ ہے۔اس کی تخلیق اور ارتقاء کا وقت تقریباً کنافہ کے زمانے کے برابر ہے اور بعض محققین کے مطابق یہ کنافہ سے بھی قدیم ہے، یعنی اس کی ابتدا اموی عہد کے آخر یا عباسی دور کے آغاز میں ہوئی۔
کچھ روایتیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ قطائف مملوک دور میں بھی مقبول تھی، جب مٹھائی بنانے والے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے اور بہترین مٹھائی پیش کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اسی دوران کسی نے مغز سے بھری ہوئی اور خوبصورت سجائی ہوئی فطیرہ تیار کی، تاکہ مہمان اسے چن کر لطف اندوز ہوں۔
قطائف اور شاعری
قطائف کی خوش ذائقگی اور مقبولیت نے شعراء کی توجہ بھی حاصل کی۔ اموی دور کے شاعر ابن الرومی، جو کنافہ اور قطائف کے شوقین تھے، نے اپنی شاعری میں انہیں بیان کیا۔
اسی طرح ابو الحسين الجزار نے بھی اپنی اشعار میں قطائف اور کنافہ کے لیے محبت کا اظہار کیا، خاص طور پر اموی سلطنت کے دوران۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ جلال الدین السیوطی نے ایک رسالہ بھی لکھا جس کا عنوان تھا ''کنافے اور قطائف کے لطیف ذائقے'' جب دسویں صدی ہجری میں مٹھائیوں کی قیمتیں بڑھ گئیں اور مصری عوام نے مزاحیہ انداز میں محتسب سے شکایت کی۔
یوں قطائف کی تاریخ مختلف روایات میں پائی جاتی ہے اور کوئی ایک روایت متفقہ نہیں ہے، مگر یہ عموماً اموی، عباسی یا فاطمی دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ کچھ روایتیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے 98 ہجری میں پہلی بار رمضان میں قطائف کا لطف اٹھایا۔
قطائف اور الاندلس
ایک روایت کے مطابق قطائف کی ابتداء اندلسیوں سے ہوئی اور یہ غرناطہ اور اشبیلیہ جیسے شہروں میں مقبول ہوئی۔یہ چھوٹی مٹھائی جو عام طور پر خشک میوہ جات سے بھری جاتی تھی، اسلامی دور میں مشرق وسطیٰ کے ممالک میں پہنچی اور وقت کے ساتھ ترقی پائی۔
اب یہ رمضان کے دوران مصر اور دیگر عرب ممالک میں ایک لازمی روایت بن چکی ہے۔تمام روایات ایک بات پر متفق ہیں: رمضان کی راتیں جہاں لوگ قطائف کے بیچنے والے کے گرد جمع ہوتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح آٹے کو گرم لوہے پر ڈال کر پکاتا ہے۔ قطائف ان کے سامنے تیار ہوتی ہیں اور بچے اسے فوراً گرم گرم کھا لیتے ہیں، چاہے اسے بعد میں بھرا یا مزید پکایا جائے۔