ٹرمپ: میں ایک طبی بحری جہاز گرین لینڈ بھیج رہا ہوں
سوشل میڈیا پر منصوبے کا اعلان، کوئی طبی جہاز لوزیانا میں تعینات نہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ لوزیانا کے گورنر جیف لینڈری کے ہمراہ ایک طبی بحری جہاز گرین لینڈ بھیجنے کے لیے کام کر رہے ہیں جو ڈنمارک کا علاقہ ہے اور ٹرمپ نے اسے حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ریپبلکن گورنرز کے لیے عشائیے کی میزبانی کرنے سے پہلے سوشل میڈیا پر اس منصوبے کا اعلان کیا۔ عشائیے کے دوران وہ لینڈری کے برابر بیٹھے اور گفتگو کی۔
"لوزیانا کے لاجواب گورنر جیف لینڈری کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہم بڑی تعداد میں بیماروں جن کا وہاں خیال نہیں کیا جا رہا، کی نگہداشت کے لیے ایک عظیم طبی بحری جہاز گرین لینڈ بھیج رہے ہیں۔ یہ راستے میں ہے!!!" ٹرمپ نے کہا۔
نہ وائٹ ہاؤس اور نہ ہی لینڈری کے دفتر نے سوشل میڈیا پوسٹ کے بارے میں سوالات کا جواب دیا کہ آیا جہاز کی درخواست ڈنمارک یا گرین لینڈ نے کی تھی اور کن بیمار لوگوں کو مدد کی ضرورت تھی۔ محکمہ جنگ نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ڈنمارک کے بادشاہ فریڈرک نے گذشتہ ہفتے ایک سال میں گرین لینڈ کا دوسرا دورہ کیا۔ جزیرہ خریدنے کے لیے ٹرمپ کے دباؤ کے پیشِ نظر یہ اس علاقے سے اتحاد کا مظاہرہ کرنے کی ایک کوشش تھی۔
نیٹو کے دفاعی اتحاد کے اندر کئی مہینوں کی کشیدگی کے بعد گرین لینڈ، ڈنمارک اور امریکہ نے گذشتہ ماہ کے آخر میں یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے گفتگو کی۔
ڈنمارک کی جوائنٹ آرکٹک کمانڈ نے کہا کہ اس نے اپنے عملے کے ایک رکن کو نکالا جسے امریکی آبدوز سے فوری طبی علاج کی ضرورت تھی۔ یہ آبدوز گرین لینڈ کے دارالحکومت نیوک سے سات بحری میل کے فاصلے پر گرین لینڈ کے پانیوں میں موجود تھی۔ ٹرمپ کی یہ پوسٹ اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے۔
یہ واضح نہیں تھا کہ لینڈری کا اس معاملے سے کیا تعلق تھا یا یہ کہ اس پوسٹ کا انخلاء سے کوئی تعلق تھا۔
امریکی بحریہ کے پاس دو طبی بحری جہاز ہیں: مرسی اور کمفرٹ لیکن دونوں میں سے کوئی بھی لوزیانا میں تعینات نہیں ہے۔