امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنے ہی ملک کی سپریم کورٹ کو ایک بار پھر تنقید اور مذمت کا نشانہ بنایا ہے۔ ٹرمپ کی طرف سے یہ مذمت سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی وجہ سے کی گئی ہے جو فیصلہ صدر کی ٹیرف پروگرام کے خلاف دیا ہے۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ 3 کے مقابلے میں 6 ججوں کی اکثریت سے سنایا گیا ہے ۔ فیصلے کے مطابق صدر ٹرمپ نے 1977 کے جس قانون کا سہارا لے کر دوسرے ملکوں پر اچانک ٹیرف میں اضافہ کیا ہے وہ ان کے اختیار سے تجاوز ہے۔
یاد رہے امریکہ کی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ پچھلے ہفتے سنایا گیا تھا۔
اس موقع پر دوسرے ٹیرفوں سے متعلق اختیارات اور ان کے لائسنسوں پر زور دیا گیا مگر کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
صدر نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے عدالت نے تاہم دیگر تمام ٹیرفوں کی منظوری دی ہے۔ جن میں سے بہت سے ٹیرف وہ ہیں جنہیں زیادہ اختیارات کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔ مگر قانون کے مطابق ہونے کے یقین کے ساتھ طرح ٹیرف اختیارات کو پہلے استعمال کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ہفتہ کے روز اپنے ردعمل میں ایک قانونی اختیار کے تحت درآمدات پر 10 فیصد نئی ڈیوٹی کا اعلان کیا اور بعدازاں اسے 15 فیصد کر دیا۔ مگر ایک دن کے بعد سپریم کورٹ نے کہا ٹرمپ نے اپنے صدارتی اختیار سے تجاوز کیا ہے۔ صدر کو 'اکنامک ایمرجنسی لاء' کے تحت اس امر کا اختیار نہیں تھا۔