لندن میں عرب سفراء کی موجودگی میں افطار کا اہتمام، غزہ کے طلبہ کی حوصلہ افزائی

برطانوی دارالحکومت میں اپنی نوعیت کی پہلی بڑی تقریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

لندن میں تعینات تین عرب سفراء اور پانچ عرب سفارت خانوں کے نمائندوں نے گذشتہ ہفتے کے روز برطانوی دارالحکومت میں منعقدہ اپنی نوعیت کی پہلی عرب افطار تقریب میں شرکت کی۔ اس تقریب میں غزہ سے تعلق رکھنے والے ان فلسطینی طلبہ کی خصوصی پذیرائی کی گئی جو حال ہی میں اپنی تعلیم مکمل کرنے لندن پہنچے ہیں۔ غزہ میں جاری جنگ کے باعث ان کی جامعات تباہ ہو گئی تھیں جس سے ان کا تعلیمی سفر بری طرح متاثر ہوا تھا۔

برطانیہ میں مقیم عرب کمیونٹی کے سینکڑوں افراد اس افطار تقریب میں شرکت کے لیے جوق درجوق پہنچے۔ اس موقع پر فلسطینی سفیر حسام زملط، اردنی سفیر منار الدباس اور سوڈانی سفیر ابوبکر الصدیق الامین موجود تھے۔ تقریب میں لبنانی سفیرہ کے نائب، الجزائری سفیر کے نائب اور بڑی تعداد میں عرب سفارت کاروں نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ نامہ نگار، سماجی کارکن اور غزہ سے تعلق رکھنے والے وہ 23 طلبہ بھی شریک ہوئے جو جنگ کی وجہ سے ادھورا رہ جانے والا اپنا تعلیمی سفر برطانوی جامعات میں مکمل کرنے کے لیے یہاں پہنچے ہیں۔

اس افطار تقریب کا اہتمام "عرب لندن" پلیٹ فارم نے برطانیہ میں اردنی فورم "اردنیز ان برطانیہ" پلیٹ فارم، انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار عراقی ویمن، لیبیا کے بیت الفزانی اور مصر کی نمائش "دندوشات" کے تعاون سے کیا تھا۔ اس موقع پر برطانوی حکمران لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے بلدیاتی کونسلوں کے متعدد ارکان بھی موجود تھے۔

افطار تقریب کے دوران غزہ کے ان طلبہ کی عزت افزائی کی گئی جو اپنی اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے کے لیے برطانیہ پہنچے ہیں۔ فلسطینی سفیر اور "عرب لندن" پلیٹ فارم کے سربراہ نے غزہ سے واپس آنے والی دو غیر ملکی خواتین ڈاکٹروں، ڈاکٹر الینا شاری اور ڈاکٹر سامینہ دین کی خدمات کو بھی سراہا اور انہیں اعزاز سے نوازا۔ یہ دونوں ڈاکٹرز "ہیلتھ ورکرز فار فلسطین" نامی تنظیم کے تحت خدمات انجام دے رہی تھیں۔

تقریب میں رمضان کی مناسبت سے کئی ثقافتی اور تفریحی پروگرام بھی پیش کیے گئے۔ اس دوران ایک خصوصی نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا جس میں فلسطینی مصنوعات رکھی گئی تھیں۔ انتظامیہ نے ایک معلوماتی مقابلہ بھی منعقد کیا جس کے اختتام پر انعامات تقسیم کیے گئے۔ ان انعامات میں "رائل جارڈینین" ایئر لائن کی جانب سے برطانیہ میں مقیم عرب کمیونٹی کے لیے تحفے کے طور پر اردن کے دو مفت فضائی ٹکٹ بھی شامل تھے۔



فلسطینی سفیر حسام زملط نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے تمام عرب کمیونٹی کو ایک چھت تلے جمع کرنے کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے عرب سفارت کاروں اور کمیونٹی کے افراد کی بڑی تعداد میں شرکت کی تعریف کی اور غزہ سے آنے والے طلبہ کے عزم و حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے "عرب لندن" پلیٹ فارم اور دیگر عرب نمائندہ تنظیموں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے "عرب کمیونٹی کانفرنس" کے تعاون سے اس کامیاب تقریب کا انعقاد کیا۔

"عرب لندن" کے سربراہ نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "یہ افطار تقریب عرب کمیونٹی کے لیے ایک تاریخی دن کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی مشترک کاوش ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم ہر سال ہر عرب ملک کی الگ الگ افطار تقریبات دیکھنے کے عادی تھے، لیکن اس سال کی خاص بات یہ ہے کہ تمام عرب ایک دسترخوان پر جمع ہوئے۔ اس سے بھی بڑھ کر خوشی کی بات یہ ہے کہ عرب سفراء نے اپنے خاندانوں کے ہمراہ عام شہریوں کے ساتھ بیٹھ کر افطار کیا"۔

واضح رہے کہ "عرب لندن" پلیٹ فارم سنہ 2018ء میں برطانیہ میں مقیم عرب صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے ایک گروپ نے قائم کیا تھا جس کا مقصد عرب کمیونٹی کو متحد کرنا ہے۔ یہ پلیٹ فارم سالانہ بنیادوں پر "فلسطینی ثقافتی میلہ" جیسی بڑی تقریبات بھی منعقد کرتا ہے، جو برطانیہ میں فلسطین کے حوالے سے ہونے والی سب سے بڑی سرگرمی سمجھی جاتی ہے اور جس میں عربوں کے ساتھ ساتھ فلسطینی مقصد کے حامی برطانوی شہری بھی بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں