امریکی واسرائیلی حملے کے آغاز پر ایران کی فضائی حدود بند
ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نے انکشاف کیا ہے کہ آج ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد ایران نے اپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند کر دی ہے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق ایران پر حملوں کا پہلا مرحلہ چار دن تک جاری رہ سکتا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف "پیشگی دفاعی حملہ" کیا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر فوجی کشیدگی بڑھ گئی ہے اور ایران کے جوہری پروگرام پر مغرب کے ساتھ جاری سفارتی حل کی کوششیں کمزور پڑ گئی ہیں۔
یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب اس سے قبل جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ فضائی جنگ ہو چکی ہے۔
امریکا اور اسرائیل پہلے ہی متنبہ کر چکے تھے کہ اگر ایران نے اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام جاری رکھے تو وہ دوبارہ کارروائی کر سکتے ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹزنے کہا:اسرائیل نے اپنے خلاف موجود خطرات سے نمٹنے کے لیے ایران پر پیشگی حملہ کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔امریکا اور ایران نے فروری میں دہائیوں پر محیط تنازع کے سفارتی حل کی کوشش کے طور پر مذاکرات دوبارہ شروع کیے تھے تاکہ خطے میں ممکنہ فوجی تصادم سے بچا جا سکے۔
تاہم اسرائیل کا اصرار تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے کسی بھی معاہدے میں ایران کے جوہری ڈھانچے کا مکمل خاتمہ شامل ہونا چاہیے، صرف یورینیم افزودگی روکنا کافی نہیں۔
اسرائیل نے میزائل پروگرام پر بھی پابندیاں شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ایران نے کہا ہے کہ وہ پابندیاں ہٹائے جانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر کچھ حدود پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن وہ جوہری معاملے کو میزائل پروگرام سے جوڑنے کو مسترد کرتا ہے۔
تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی حملے کے خلاف اپنا دفاع کرے گا اور خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا جہاں امریکی افواج تعینات ہیں۔
جون میں امریکا نے اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں میں شمولیت اختیار کی تھی، جو اب تک ایران کے خلاف سب سے بڑی براہِ راست امریکی فوجی کارروائی تھی۔
اس کے جواب میں ایران نے قطر میں واقع امریکی العدید ایئر بیس پر میزائل داغے تھے، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔
مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے اور اگر اسے مزید ترقی دی گئی تو یہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا ذریعہ بن سکتا ہے۔