ایران اور دوسری جانب امریکا و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے 13ویں دن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران شکست کے قریب پہنچ رہا ہے۔
بدھ کی شام دیے گئے اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ میں واشنگٹن کی پوزیشن بہت مضبوط اور بہتر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی فضائی اور بحری دونوں افواج سے محروم ہو چکا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق تہران کے پاس اب فضائی حملوں سے دفاع کا کوئی مؤثر نظام بھی موجود نہیں رہا۔
مباشر من العربية| تطورات حرب إيران لحظة بلحظةhttps://t.co/ellWS4SR7j
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) March 6, 2026
ہم اس سے کہیں زیادہ سخت کارروائی بھی کر سکتے ہیں
اس کے علاوہ ٹرمپ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف اس سے کہیں زیادہ سخت اقدامات بھی کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز پر گہری نظر رکھے گا، خاص طور پر اس کے بعد جب ایران کی جانب سے اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو دھمکیاں دی گئیں۔
ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اگر امریکی اور اسرائیلی حملے بند نہ ہوئے تو آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روک دی جائے گی۔
کم از کم 16 بحری جہاز نشانہ بنے
ادھر بحری سلامتی اور خطرات کے جائزے سے متعلق اداروں نے بدھ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز میں تین جہازوں پر نامعلوم گولوں سے حملہ کیا گیا۔
اسی طرح بظاہر ایران نے دھماکہ خیز مواد سے لدی کشتیوں کے ذریعے عراقی پانیوں میں دو تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد جنگ شروع ہونے کے بعد اس خطے میں حملوں کا نشانہ بننے والے جہازوں کی تعداد کم از کم 16 تک پہنچ گئی ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب آبنائے ہرمز سے جہاز رانی تقریباً معطل ہونے کے قریب ہے۔ اس اہم بحری راستے سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے۔
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی 2022 کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔
دریں اثنا امریکی صدر کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تین باخبر ذرائع نے بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق ایرانی قیادت اب بھی کافی حد تک مضبوط اور متحد ہے اور فی الحال اس کے جلد گرنے کا کوئی خطرہ نہیں۔
ان ذرائع میں سے ایک نے جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، بتایا کہ متعدد انٹیلی جنس رپورٹس اس بات پر متفق ہیں کہ ایرانی نظام فوری طور پر کسی بحران یا انہدام کے خطرے سے دوچار نہیں اور وہ اب بھی ایرانی عوامی رائے پر خاصا کنٹرول رکھتا ہے۔ یہ بات خبر رساں ادارے رائٹرز نے نقل کی۔
یاد رہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک امریکا اور اسرائیل ایران کے مختلف اہداف پر سینکڑوں فضائی حملے کر چکے ہیں، جن میں فضائی دفاعی نظام، جوہری تنصیبات اور اعلیٰ فوجی قیادت شامل ہیں۔
ان حملوں میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور درجنوں اعلیٰ حکام بھی مارے گئے، جن میں سابق وزیر دفاع اور ان کے جانشین کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب کے کئی سینئر کمانڈر بھی شامل تھے۔
پاسدارانِ انقلاب ایران کی ایک طاقتور فوجی قوت ہے ،جو ملک کی معیشت کے بڑے حصے پر اثر و رسوخ رکھتی ہے۔
کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق تہران ممکنہ طور پر طویل تھکا دینے والی جنگ کی حکمت عملی پر انحصار کر رہا ہے، حالانکہ اسے بھاری نقصانات اٹھانا پڑے ہیں۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح وقت مقرر نہیں کیا، اگرچہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران میں زیادہ تر اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔
ادھر اسرائیل نے بھی اس تنازع کے خاتمے کے لیے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی، تاہم بعض حکام نے اشارہ دیا ہے کہ یہ جنگ ایک ماہ سے زیادہ بھی جاری رہ سکتی ہے۔