10 سال بعد، روبوٹ نے روبک کیوب حل کرنے کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا
روبوٹ نے پہیلی والا کیوب صرف 45 سیکنڈ میں حل کرکے انسانوں کو مات دے دی
دو برطانوی بھائیوں نے ایک ایسا روبوٹ ڈیزائن کر کے روبوٹکس کے شعبے میں نئی کامیابی حاصل کی ہے جو پیچیدہ روبک کیوب کو حیرت انگیز رفتار سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے روبوٹ کو حال ہی میں گنیز ورلڈ ریکارڈز نے اس وقت تسلیم کیا جب اس نے 4x4 روبک کیوب کو صرف 45.3 سیکنڈ میں حل کر لیا اور اس طرح ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے قائم ریکارڈ توڑ دیا۔
اس پروجیکٹ کو میتھیو اور تھامس بائیڈن نامی بھائیوں نے تیار کیا ۔ دونوں نے روبوٹ بنانے کے لیے اپنی تکنیکی مہارتوں کو یکجا کیا۔ یہ رپورٹ ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کی خبروں کی ماہر ویب سائٹ انٹرسٹنگ انجینئرنگ نے دی ہے۔ اس رپورٹ کا جائزہ ’’ العربیہ بزنس ‘‘ نے لیا ہے۔
میتھیو نے بنیادی طور پر سافٹ ویئر اور کنٹرول سسٹم پر توجہ مرکوز کی جہاں انہوں نے وہ الگورتھم تیار کیے جو روبوٹ کو کیوب کا تجزیہ کرنے اور اسے حل کرنے کے لیے ضروری حرکات کے صحیح ترتیب کا تعین کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ تھامس نے تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے روبوٹ کے کئی مکینیکل حصوں کے ڈیزائن اور تیاری میں حصہ لیا۔ اس تعاون نے انہیں پروگرامنگ کی مہارت کو تخلیقی انجینئرنگ کے ساتھ جوڑنے کا موقع فراہم کردیا۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسی مشین تیار ہوئی جو انتہائی درستی اور مہارت کے ساتھ کام کرتی ہے۔
میتھیو نے کہا میں نے اپنی یونیورسٹی کے گریجویشن پروجیکٹ کے طور پر ریکارڈ توڑنے کا فیصلہ کیا۔ مجھے بچپن سے ہی روبک کیوب اور کمپیوٹر سائنس کا شوق رہا ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ ان دونوں کو یکجا کرنا ایک فطری ترقی اور ایک شاندار پروجیکٹ ہے۔ روبوٹ ایک مرکزی فریم پر بنایا گیا ہے جو کیوب کو اپنی جگہ پر رکھتا ہے اور اس میں کیوب کے گرد چار مکینیکل بازو استعمال کیے گئے ہیں۔ ہر بازو روبک کیوب کی مختلف تہوں کو درستگی سے گھما سکتا ہے۔
کیوب کو سکین کرنے اور اس کے پیٹرن کا تعین کرنے کے بعد روبوٹ پروگرام شدہ الگورتھم کا استعمال کرتے ہوئے تیز ترین حل کا حساب لگاتا ہے اور پھر گھمانے والی حرکات کا ایک تیز سلسلہ انجام دیتا ہے یہاں تک کہ کیوب کے تمام رخ درست طریقے سے ترتیب پا جاتے ہیں۔
مظاہرے کے دوران روبوٹ تیزی اور روانی سے حرکت کر رہا تھا ۔ اس دوران ہر بازو ایک درست حساب شدہ ترتیب سے کیوب کو گھما رہا تھا اور چند سیکنڈوں میں روبوٹ نے پوری پہیلی حل کر لی۔ ریکارڈ پہلی ہی کوشش میں کامیابی سے نہیں ٹوٹا تھا۔ دونوں بھائیوں کو حتمی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے کئی ناکام کوششوں کا سامنا کرنا پڑا۔ روبوٹ کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور اس کی رفتار بڑھانے کے بعد، وہ 45.3 سیکنڈ میں پہیلی حل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اس طرح ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ روبوٹ کا خیال برسٹل یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران ایک سٹوڈنٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع ہوا تھا۔ یہ چیز ایک تعلیمی تجربے کے طور پر شروع ہوئی تھی۔ یہ تجربہ آخر کار ایک ایسے جدید روبوٹک نظام میں تبدیل ہوگیا جو عالمی ریکارڈ قائم کرنے کے قابل ہے۔