ٹرمپ کے ایران کو الٹی میٹم کے بعد روس کا ’سیاسی اور سفارتی‘ تصفیے کا مطالبہ
صدر ٹرمپ کی طرف سے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم دینے کے بعد روس نے پیر کے روز شرقِ اوسط جنگ کے "سیاسی اور سفارتی" تصفیے پر زور دیا ہے۔
ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر تجارتی اہمیت کی حامل آبی گذرگاہ نہ کھولی تو ایران کے بجلی گھروں کو "مٹا" دیں گے۔ یہ الٹی میٹم پیر کے اواخر میں ختم ہونا ہے۔
ایران پر 28 فروری کو امریکی-اسرائیلی حملے کے بعد سے آبی گذرگاہ مؤثر طریقے سے بند ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اے ایف پی سمیت دیگر ایجنسیوں کے صحافیوں کو ایک بریفنگ میں بتایا، "ہمارا خیال ہے کہ صورتِ حال کو سیاسی اور سفارتی تصفیے کی طرف لے جانا چاہیے تھا۔"
پیسکوف نے کہا، "یہ واحد چیز ہے جو خطے میں پیدا شدہ موجودہ تباہ کن اور کشیدہ صورتِ حال کو بہتر کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔"
بوشہر میں ایران کے واحد فعال ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر میں مدد کرنے والے روس نے ان حملوں کے خلاف خبردار کیا ہے جو اس مقام کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اسے ایک گولے سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
پیسکوف نے پیر کو کہا، "یقیناً اگر یہی حالات جاری رہے تو یہ ایک بہت سنگین سکیورٹی خطرہ ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "ہم جوہری تنصیبات پر حملوں کو ممکنہ طور پر انتہائی خطرناک اور ایسے نتائج سے بھرپور سمجھتے ہیں جنہیں ٹالا نہ جا سکے۔"
پیسکوف نے کہا، روس بوشہر پلانٹ پر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے "مسلسل گفتگو" کر رہا ہے۔
آئی اے ای اے نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا کہ ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے کسی بھی "جوہری حادثے کے خطرے سے بچنے کے لیے تنازعہ کے دوران تحمل سے کام لینے کا مطالبہ کیا۔"
کریملن نے پیر کے روز پولیٹیکو کی اس رپورٹ کو بھی جھوٹا قرار دیا کہ روس نے یوکرین کے لیے امریکہ کی حمایت ختم کرنے کے عوض ایران سے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بند کرنے کی پیشکش کی تھی۔
پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا، "ہم نے یہ رپورٹ دیکھی ہے۔ یہ خلافِ حقیقت بلکہ جھوٹ پر مبنی ہے۔"