گذشتہ ماہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے سے تقریباً 48 گھنٹے قبل، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق اس گفتگو کا مقصد صدر ٹرمپ کو اس پیچیدہ اور طویل المدت جنگ پر آمادہ کرنا تھا جس کی وہ ماضی میں مخالفت کرتے رہے تھے۔
انٹیلی جنس رپورٹس کے ذریعے دونوں رہنماؤں کو علم تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور ان کے اعلیٰ معاونین تہران میں ایک اہم اجلاس کرنے والے ہیں، جس نے انہیں (قیادت کو نشانہ بنانے والے حملے کے لیے) آسان ہدف بنا دیا تھا۔ تازہ معلومات سے یہ بھی پتہ چلا کہ یہ اجلاس ہفتے کی شام کے بجائے ہفتے کی صبح ہی طلب کر لیا گیا ہے۔
نیتن یاہو نے جو دہائیوں سے اس طرح کی کارروائی کے حامی رہے ہیں، ٹرمپ کو قائل کرنے کے لیے یہ دلیل دی کہ علی خامنہ ای کو راستے سے ہٹانے اور 2024 میں ٹرمپ کے قتل کی مبینہ ایرانی سازشوں کا بدلہ لینے کے لیے اس سے بہتر موقع نہیں ملے گا۔ واضح رہے کہ امریکی محکمہ انصاف نے ایک پاکستانی شخص پر ایران کی ایما پر ٹرمپ کے قتل کے لیے لوگ بھرتی کرنے کا الزام عائد کیا تھا، جو قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔
اگرچہ ٹرمپ اصولی طور پر فوجی کارروائی کے حق میں تھے، لیکن مداخلت کے وقت اور حالات کے بارے میں تذبذب کا شکار تھے۔ امریکی فوج خطے میں پہلے ہی اپنی موجودگی بڑھا چکی تھی اور ایک ممکنہ حملہ خراب موسم کی وجہ سے ملتوی بھی کیا جا چکا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی اس کال اور وقت کی کمی کے احساس نے ٹرمپ کو حتمی فیصلہ کرنے پر مجبور کیا، جس کے بعد انہوں نے 27 فروری کو فوجی آپریشن کا حکم دیا۔
اگرچہ امریکی صدر نے عوامی سطح پر اسے اپنا ذاتی فیصلہ قرار دیا، لیکن رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ نیتن یاہو کی ترغیب اور "انتقام" کے پہلو نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مارچ کے اوائل میں امریکی وزیر دفاع نے بھی اشارہ دیا کہ اس آپریشن کے محرکات میں سے ایک محرک انتقام تھا، کیونکہ ایران نے صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔