غزہ میں اسرائیلی اشتعال انگیزی کا مقصد جنگ بندی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے:حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی تنظیم حماس نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں جنگ بندی معاہدے کی مساعی کو آگے بڑھانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ غزہ پٹی میں اسرائیل کی جانب سے فوجی کارروائیوں میں تیزی اور محاصرے کی سختی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ جنگ بندی کے عمل کو ناکام بنانا چاہتا ہے۔

حازم قاسم نے جرمن خبر رساں ادارے (ڈی پی اے) کو موصول ہونے والے ایک بیان میں مزید کہا کہ پٹی میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رکھنا اور تعمیر نو کی کوششوں کو روکنا دراصل مختلف انداز میں جاری نسل کشی کی ہی ایک کڑی ہے۔

یہ بیان غزہ کی پٹی میں گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ہونے والے ان حملوں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں طبی ذرائع کے مطابق متعدد فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔

حازم قاسم نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ثالث اور ضامن فریق ان خلاف ورزیوں کو روکنے اور حصار ختم کرنے کے لیے موثر دباؤ ڈالیں تاکہ پُرامن حالات کی جانب واپسی کا راستہ مکمل ہو سکے۔

ایران کے خلاف جاری جنگ کے باوجود غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے نہیں رکے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر کے مہینے میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے غزہ میں تشدد کی کئی لہریں دیکھنے میں آئی ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں جنگ بندی کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فائرنگ کے نتیجے میں تقریباً 680 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ اسی عرصے کے دوران غزہ میں مسلح افراد کے ہاتھوں اس کے 4 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں