بحیرۂ کیسپیئن میں اسرائیل کا حملہ، ایران کو روسی اسلحہ کی ترسیل روکنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ذرائع کے مطابق اسرائیل نے بحیرۂ کیسپیئن میں ایک بحری ہدف پر حملہ کیا، جس کا مقصد ایران کو جنگ کے دوران روسی حمایت فراہم کرنے والے راستوں کو نقصان پہنچانا تھا۔

اس میں وہ سپلائی لائنز نشانہ بنائی گئیں جو ہتھیار، ڈرونز اور دیگر عسکری سامان لے کر جاتی ہیں، جیسا کہ امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا۔

یہ حملہ پچھلے ہفتے ہوا،اور یہ اسرائیل کا بحر قزوین میں پہلا حملہ تھا۔ یہ سمندر دنیا کا سب سے بڑا بند سمندر ہے اور روسی اور ایرانی بندرگاہوں کو جوڑتا ہے، جن کے درمیان فاصلہ تقریباً 600 میل ہے۔ یہی راستہ ہتھیار اور دیگر سامان جیسے گندم اور تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتا ہے اور امریکی بحری کارروائیوں کے دائرہ کار سے باہر ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ راستہ خاص طور پر شاہد ڈرونز کی ترسیل کے لیے اہم ہو گیا ہے، جو روس اور ایران میں تیار کیے جاتے ہیں۔

ماسکو نے ان کا استعمال یوکرین کے شہروں پر حملوں کے لیے کیا، جبکہ تہران نے انہیں خلیج میں امریکی اڈوں اور توانائی کے بنیادی مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا۔

اطلاعات کے مطابق جنگ کے دوران روس اور ایران کے درمیان عسکری تعاون میں اضافہ ہوا ہے، جس میں روس نے ایران کو سیٹلائٹ تصاویر اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کی، جس سے تہران کی امریکی اور دیگر اہداف پر حملے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔

اسرائیلی بحریہ کے سابق کمانڈر ایلیعازر ماروم کے مطابق اس حملے کا بنیادی مقصد روس کی اسمگلنگ کو روکنا اور ایران کی بحری دفاعی صلاحیت کو کمزور دکھانا تھا۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ حملہ بندر انزلی کے بندرگاہ پر کیا گیا، جس میں متعدد اہداف نشانہ بنائے گئے، جیسے جنگی جہاز، بندرگاہی سہولیات، کمانڈ سینٹر اور جہازوں کی مرمت کے حوض۔تصاویر سے ظاہر ہوا کہ بندرگاہ میں ایرانی بحری کمانڈ کے دفتر کو نقصان پہنچا اور کچھ بحری جہاز تباہ ہوئے، تاہم پورے انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کا مکمل تخمینہ ابھی واضح نہیں ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ روس اور ایران ممکنہ طور پر متبادل راستوں سے اسلحہ کی ترسیل جاری رکھیں گے، لیکن اسرائیل کے پاس مزید حملے کرنے کی صلاحیت موجود ہے تاکہ یہ سرگرمیاں رکی جا سکیں۔

مزید برآں ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے راستے گندم اور دیگر ضروری سامان کی تجارت سے بھی جڑے ہیں، جس سے ایران میں خوراک کی سپلائی پر ممکنہ خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل دباؤ بڑھانے کے لیے اندرونی سطح تک اثر انداز ہو سکتا ہے۔

یہ حملہ اس وقت ہوا جب اسرائیل نے ایران کے سب سے اہم توانائی کے منصوبوں میں سے ایک ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو بھی نشانہ بنایا، جو بجلی کی پیداوار اور کھاد سازی جیسے ضروری شہری منصوبوں کے لیے اہم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں