"ہٹلر یوتھ"... 12 برس کی عمر کے بچوں کو جنگ کا ایندھن بنا دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اپنے آخری ایام میں معروف جرمن فوجی آمر ایڈولف ہٹلر نے "ہٹلر یوتھ" سے وابستہ متعدد بچوں سے ملاقات کی اور اپنے بنکر میں انہیں "آئرن کراس" کے اعزاز سے نوازا۔ دوسری جنگِ عظیم کے آخری مرحلے میں اس تنظیم میں 10 سے 17 سال تک کے بچے شامل تھے، جنہیں جرمن شہروں کے دفاع کے لیے جنگ کے شعلوں میں جھونک دیا گیا تھا۔

انیسویں صدی کے اواخر میں جرمنی میں کئی نوجوان تنظیمیں اور اسکاؤٹس گروپ ابھرے جو جلد ہی مقبول ہو گئے۔ 1922 میں نازی پارٹی سے وابستہ "یوتھ لیگ" کا ظہور ہوا جس کا نظام اور وردیاں نازی ملیشیا "اسٹورم ڈیٹیچمنٹ" سے مشابہ تھیں۔ 1923 کی ناکام بغاوت کے بعد نازی سرگرمیوں پر پابندی لگی، لیکن 1926 میں پابندی ہٹنے پر "ہٹلر یوتھ" کی بنیاد رکھی گئی تاکہ نازیوں کی اگلی نسل تیار کی جا سکے۔

سال1930 کی دہائی کے آغاز میں اس تنظیم کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھا۔ جب جنوری 1933 میں ہٹلر برسرِ اقتدار آیا تو ارکان کی تعداد ایک لاکھ تھی، جو سال کے اختتام تک 20 لاکھ تک پہنچ گئی۔ نازی حکومت نے خاندانوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے بچوں کو اس تنظیم میں بھیجیں، جس کے نتیجے میں 1937 تک رکنیت 57 لاکھ اور 1940 تک 80 لاکھ تک پہنچ گئی۔ لڑکوں کو فوجی طرز کی جسمانی تربیت اور نازی نظریات پڑھائے جاتے تھے، جبکہ لڑکیوں کو گھر داری کی تعلیم دی جاتی تھی تاکہ وہ مستقبل کی "اچھی مائیں" بن سکیں۔

جنگ کے ابتدائی سالوں (1939-1942) میں یہ نوجوان پیغام رسانی، کھیتوں میں کام اور زخمیوں کی مدد جیسے امور انجام دیتے تھے۔ 1943 کے بعد انہیں طیارہ شکن توپیں چلانے، خندقیں کھودنے اور سیکورٹی فورسز کی مدد پر مامور کیا گیا۔ جنگ کے آخری مہینوں میں ہٹلر نے ناکافی تربیت کے باوجود ان بچوں کو محاذِ جنگ پر بھیجنے سے گریز نہیں کیا۔

برلن کی آخری جنگ میں ہٹلر نے ان بچوں کو "وولکس اسٹورم" نامی دستوں کا حصہ بنایا، جس میں بچے اور ضعیف العمر مرد شامل تھے۔ ان بچوں کو ٹینک شکن ہتھیاروں کے ذریعے دشمن کے ٹینک تباہ کرنے کا مشکل ہدف دیا گیا۔ جنگ کے خاتمے تک ہزاروں بچے ہلاک ہو گئے جبکہ ایک بڑی تعداد سوویت یونین کی قید میں چلی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں