دنیا بھر کی نظریں آج بدھ کی شام وائٹ ہاؤس کے اوول آفس پر مرکوز ہیں، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کرنے والے ہیں۔
یہ اعلان وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک مختصر پیغام میں کیا۔
انہوں نے لکھا:ہمارے ساتھ رہیں… مشرقی امریکی وقت کے مطابق رات 9 بجے صدر ٹرمپ قوم سے خطاب کریں گے اور ایران کے بارے میں اہم اپڈیٹ دیں گے۔
اس مختصر اعلان کے بعد امریکی عوام، صحافیوں اور تجزیہ کاروں میں مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔
TUNE IN: Tomorrow night at 9PM ET, President Trump will give an Address to the Nation to provide an important update on Iran.
— Karoline Leavitt (@PressSec) March 31, 2026
کیا جنگ ختم ہونے والی ہے؟
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے کا اعلان کر سکتے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ وہ اور ان کی انتظامیہ کے دیگر عہدیدار حالیہ دنوں میں اس طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ تنازع اپنے اختتام کے قریب ہے۔
دوسری جانب کچھ حلقے یہ بھی سمجھتے ہیں کہ امریکہ ایران کے اندر زمینی فوج بھیجنے کا اعلان کر سکتا ہے۔
جبکہ بعض افراد نے طنزیہ انداز میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا صدر کو اس اعلان کے لیے یکم اپریل (اپریل فول) سے بہتر دن نہیں ملا؟
اسرائیل کا مؤقف
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی حکام بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکہ نے ایران میں اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں۔
تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جنگ جاری رکھنے کے حامی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تل ابیب، واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ ایران کے اندر ایک مختصر مگر فیصلہ کن زمینی کارروائی کی جائے۔
امریکی عوام کی رائے
ادھر ایک حالیہ سروے کے مطابق تقریباً 66 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ امریکہ کو جلد از جلد اس جنگ سے نکل جانا چاہیے، چاہے اس کے تمام اہداف حاصل نہ بھی ہوں۔
جبکہ 27 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اپنے تمام مقاصد حاصل کرنے تک جنگ جاری رکھنی چاہیے، چاہے اس میں زیادہ وقت ہی کیوں نہ لگے۔