ایران کی بندرگاہوں کے امریکی بحری محاصرے کے دوسرے روز ایرانی وزارتِ داخلہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے پاس درآمدات و برآمدات کے لیے دیگر زمینی متبادل موجود ہیں۔ منگل کے روز وزارت نے تمام صوبائی حکام پر زور دیا کہ وہ بحری محاصرے کا مقابلہ کرنے کے لیے زمینی راستوں سے سامان کی نقل و حمل کو آسان بنائیں۔
بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی "کیپلر" کے مطابق امریکی محاصرے کے باوجود پیر کے روز کم از کم دو جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کیا۔ لائبیریا کے جھنڈے والا مال بردار جہاز "کرسٹیانا" امام خمینی بندرگاہ پر مکئی اتارنے کے بعد اور جزائر کوموروس کا آئل ٹینکر "ایلبس" اس تزویراتی آبنائے سے گزرنے میں کامیاب رہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے واضح کیا ہے کہ وہ غیر ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی، تاہم کسی بھی ایرانی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ اقدامات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے ایران کی تمام بندرگاہوں کے بحری محاصرے کا حکم دیا تھا اور کسی بھی گزرنے والے ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ یہ سخت فیصلہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کی ناکامی کے بعد دباؤ بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کے لیے اس اہم آبی گزرگاہ کے متبادل بہت محدود ہیں۔ اگرچہ "جاسک" بندرگاہ بحیرہ عمان پر واقع ہے اور ایک طویل پائپ لائن کے ذریعے وہاں سے تیل برآمد کیا جا سکتا ہے، لیکن سرمایہ کاری کی کمی اور پابندیوں کی وجہ سے اس کی موجودہ صلاحیت صرف 3 سے 3.5 لاکھ بیرل روزانہ ہے، جو ایران کی ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
اسی طرح "چابہار" بندرگاہ بھی آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہے اور اسے ریل نیٹ ورک کے ذریعے بھارت، افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایران "شمال-جنوب بین الاقوامی ٹرانسپورٹ راہداری" (INSTC) کے ذریعے روس اور یورپ کے ساتھ تجارت کی کوشش کر رہا ہے، جس میں سامان جنوبی بندرگاہوں سے زمینی راستے کے ذریعے بحیرہ کیسپین کی شمالی بندرگاہوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
علاوہ ازیں، ترکیہ، عراق، پاکستان اور آذربائیجان کے ساتھ زمینی اور ریل رابطے بھی موجود ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام راستے مل کر بھی آبنائے ہرمز کا مکمل نعم البدل نہیں ہو سکتے۔ ایک اندازے کے مطابق اس بحری محاصرے کی وجہ سے ایران کو روزانہ 45 کروڑ ڈالر تک کا نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
-
امریکہ نے مذاکرات میں نمایاں پیش رفت کی ہے، گیند اب ایران کے کورٹ میں ہے : وینس
امریکہ کو ایران سے توقع ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کھولنے کے سلسلے میں آگے بڑھے گا
بين الاقوامى -
پاکستان : امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی تجویز
پاکستان کے سرکاری ذرائع نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ ایران ...
پاكستان -
امریکہ کے سخت گیر رویے نے معاہدے کی راہ میں خلل ڈالا:ایرانی صدر
اسلام آباد میں ایرانی اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے انتظار کے درمیان ...
بين الاقوامى