پاکستان : امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی تجویز
پاکستان کے سرکاری ذرائع نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ ایران کے درمیان بے نتیجہ ختم ہونے والے مذاکرات کے اس غیر معمولی راؤنڈ کے بعد فریقین کو تجویز دی ہے کہ وہ مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ کرنے کے لیے پھر جمع ہوں تاکہ خطے اور پوری دنیا کو بد امنی اور اقتصادی تباہی سے بچایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اس تجویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مذاکرات اسلام آباد میں بھی منعقد کیے جا سکتے ہیں اور فریقین اس کے علاوہ بھی کوئی جگہ چاہیں تو پاکستان کو اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
امریکہ کے نائب صدر نے 21 گھنٹے تک ایران کے ساتھ جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد امریکہ میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان نے دوسرے راؤنڈ کے لیے بھی تجویز دی ہے۔ تاکہ امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے کی طرف بڑھ سکیں۔
پاکستان کے دو مختلف عہدیداروں نے بھی اس تجویز کی تصدیق کی ہے۔ تاہم انہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا۔ ایک پاکستانی عہدیدار نے کہا کہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکنے کے باوجود امریکہ ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے اچھی توقعات ہیں کیونکہ یہ مذاکراتی پراسس کا آغاز ہوگیا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے 'فاکس نیوز' کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں کسی قدر پیش رفت ہوئی۔ تاہم امریکہ کا اصرار ہے کہ ایران افزودہ یورینیئم کو ختم کرے۔ نیز یہ یقینی بنائے کہ ایران مستقبل میں یورینیئم افزودہ نہیں کرے گا۔
البتہ جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا کہ ایران ہماری ہدایات کے مطابق آگے بڑھا ہے۔ تاہم ایک معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔ کیونکہ میرا خیال ہے کہ ایرانی وفد کے ارکان تہران سے منظوری لیے بغیر کوئی معاہدہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔
انہوں نے کہا امریکی مذاکرات کاروں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کو خوشی ہوگی کہ اگر ایران ایک نارمل ملک کے طور پر رہے اور اس کی معیشت بھی نارمل ہو۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا ہم ایک بڑے عظیم معاہدے کا سوچ سکتے ہیں مگر اس کا انحصار ایرانیوں پر ہے کہ وہ اگلا قدم کیا لیتے ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ابھی تک اس بات کا جواب نہیں دیا کہ مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے یا نہیں اور نہ ہی وائٹ ہاؤس نے ابھی تک یہ کہا ہے کہ مذاکراتی عمل اب بھی بروئے کار ہے۔
واٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ، نائب صدر اور مذاکرات کاروں نے ایران کو اچھی طرح اپنی سرخ لکیروں سے آگاہ کر دیا ہے اور ہمیں اندازہ ہے کہ ایران صرف اسی صورت میں معاہدے پر مجبور ہوگا کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے اعلان کیے گئے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مؤثر طریقے سے ممکن بنائی جائے گی۔
خیال کیا جا رہ اہے کہ دونوں فریق مذاکرات کے نئے راؤنڈ کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اس کی کیا شکل ہوگی اور چھ ہفتوں کی جنگ کا خاتمہ کیسے ہو سکے گا کیونکہ اگلے ہفتے میں جنگ بندی کا دورانیہ ختم ہونے جا رہا ہے۔ یہ بات ایک امریکی عہدیدار نے کہی ہے۔ تین دیگر حکام کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے لیے ابھی غور جاری ہے۔
امریکہ سے متعلق ان تمام حکام نے ان خیالات کا اظہار اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر کیا ہے۔ البتہ یہ معلوم ہوا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے حکام دوبارہ سے مذاکرات کی جگہ کے لیے آپس میں بات چیت کر رہے ہیں۔
ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں جنیوا کو اس بار مذاکرات کا مرکز بنایا جائے۔ مگر ابھی جگہ اور وقت دونوں کے حوالے سے واضح نہیں ہے اگرچہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مذاکرات کا اگلا راؤنڈ جمعرات کو ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود وائٹ ہاؤس نے کسی چیز کی باقاعدہ طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔