اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس نے ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کے کھولے جانے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ جمعہ کے روز اپنے خیر مقدمی بیان میں سیکرٹری جنرل نے کہا یہ ایک درست سمت میں لیا گیا قدم ہے۔
سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے سیکرٹری جنرل کا بیان جاری کرتے ہوئے کہا انہوں نے آبنائے ہرمز کے سب کے لیے اور مکمل طور پر دوبارہ کھول دیے جانے کے اقدام کو سراہا ہے۔ جس کے نتیجے میں تمام تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکیں گے۔
بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی پوزیشن بڑی واضح ہے کہ تمام تر بین الاقوامی نیوی گیشن کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے اور تمام فریقوں کو جہازوں کو آزادانہ گزرنے دینا چاہیے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیکرٹری جنرل مسئلے کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کے مکمل حامی ہیں۔ تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن کی راہ تلاش ہو سکی۔ انہوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا ہے کہ جنگ بندی کے ساتھ ساتھ یہ اقدام بھی اعتماد سازی میں کردار ادا کرے گا۔ نیز اس طرح پاکستان کی طرف سے مذاکرات میں فراہم کی جانے والی سہولت اور کوشش کو طاقت ملے گی۔
دریں اثنا فرانس اور برطانیہ کے رہنماؤں نے بھی ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اقدام کی تعریف کی۔ تاہم اس امر پر بھی زور دیا کہ آبی گزرگاہ کو جہازوں کی آمد و رفت کے لیے مستقل کھولنا چاہیے۔ یاد رہے امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کے خلاف 28 فروی کو جنگ شروع کی تھی۔ بعد ازاں ایران نے امریکہ ، اسرائیل سمیت ان کے سب اتحادیوں کی تجارتی نقل و حمل کو آبنائے ہرمز سے روک دیا تھا۔
برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے اپنے سوچ بچار اور اقدامات کی خاطر اگلے ہفتے لندن میں اجلاس کریں گے۔
میکروں کے مطابق پچاس کے قریب ملکوں، اداروں اور فورمز کے اکٹھا ہونے کے بعد ہم تمام یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی غیر مشروط بندش کو تمام فریق کھول دیں۔