ایران، امریکہ مذاکرات نازک موڑ پر، جنگ کے خدشات میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

پوری دنیا 22 اپریل کا انتظار کر رہی ہے، کیونکہ اس دن ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے والی ہے، اسی دوران آبنائے ہرمز بدستور ایرانی افواج کے کنٹرول میں بند ہے۔

گذشتہ روز آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک باراس وقت پھر بڑھ گئی، جب ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹتے ہوئے وہاں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں پر فائرنگ کی۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدام امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیوں کے تسلسل کا ردعمل ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا کہ جب تک امریکی پابندیاں ختم نہیں ہوتیں، آبنائے ہرمز بند رہے گی، انھوں نے خبردار کیا کہ کوئی بھی جہاز اپنی جگہ سے حرکت نہ کرے، بصورت دیگر اسے نشانہ بنایا جائے گا۔

دوسری جانب پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر تہران کا دورہ مکمل کرکے واپس پہنچ چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ ایران کے لیے امریکی پیشکش اور واشنگٹن کی شرائط سے متعلق پیغام لے کر گئے تھے۔

ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے تصدیق کی ہے کہ جنرل عاصم منیر نے نئی امریکی تجاویز تہران تک پہنچائیں، جن پر ایران ابھی غور کر رہا ہے اور تاحال کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا گیا۔

تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ مذاکراتی ٹیم کسی بھی قسم کی سودے بازی، پسپائی یا نرمی اختیار نہیں کرے گی، اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

ہنگامی اجلاس… کیا جنگ دوبارہ شروع ہو گی؟

ادھر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی کشیدگی اور پاکستان کے ذریعے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے مستقبل پر غور کیا گیا۔

عالمی سطح پر نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ آج اتوار کو صدر ٹرمپ کیا اعلان کرتے ہیں۔اسی دوران ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے بتایا کہ تل ابیب کو توقع ہے کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری رابطوں کے خاتمے کا اعلان کر سکتے ہیں، خاص طور پر اسلام آباد میں متوقع مذاکراتی دور سے پہلے۔ اس کے ساتھ ہی یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فوجی تصادم دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔

عہدیدار نے مزید کہا: ہم اور امریکی کسی بھی وقت جنگ بندی کے اچانک خاتمے کے امکان کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی فوج اور فضائیہ کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال کا فوری جواب دیا جا سکے، جیسا کہ اخبار ''یدیعوت احرونوت'' نے رپورٹ کیا۔

دوسری جانب ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات میں جلد کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو آئندہ چند دنوں میں جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، جیسا کہ ویب سائٹ ''اکسیوس'' نے نقل کیا۔

جوہری تنازع اور آبنائے ہرمز

دوسری جانب ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم جوہری معاملات اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف

ادھر امریکی صدر نے بھی تہران کے ساتھ ''انتہائی مثبت مذاکرات'' کا ذکر کیا، لیکن ساتھ ہی اہم بحری تجارتی راستے کے حوالے سے کسی بھی قسم کے دباؤ یا بلیک میلنگ کے خلاف خبردار کیا۔

اگرچہ دونوں فریقین نے مذاکرات میں پیش رفت کا عندیہ دیا ہے، مگر جنگ بندی کے نازک معاہدے کے اختتام میں صرف تین دن باقی رہ جانے کے باوجود کسی بھی جانب سے تفصیلات سامنے نہیں آئیں، جس سے غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ جس میں ایک طرف ایران اور دوسری جانب امریکا و اسرائیل شامل تھے، نہایت شدید نوعیت اختیار کر گئی تھی۔

اس تصادم میں ایران کے کئی اعلیٰ عسکری رہنما ہلاک ہوئے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک جیسے لبنان اور عراق بھی اس کے دائرہ کار میں آ گئے۔اس جنگ کے عالمی اثرات بھی نمایاں رہے، خصوصاً تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، کیونکہ آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل ہوتی ہے ، عملی طور پر بند ہو گئی تھی، جس نے عالمی معیشت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size