"سگنل اسکینڈل" کےایک سال بعد والٹزکی نمایاں واپسی..اقوام متحدہ میں ٹرمپ انتظامیہ کاچہرہ
ٹرمپ ایران کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کا نقطہ نظر واضح کرنے کے لیے ان پر بھروسہ کرتے ہیں
اقوام متحدہ میں متعین امریکی سفیر مائیک والٹز ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق وائٹ ہاؤس کی پالیسی کو آگے بڑھانے والے ایک اہم ترین کھلاڑی کے طور پر ابھرے ہیں۔ ان کی سیاسی اور میڈیا میں موجودگی اقوام متحدہ کی راہ داریوں سے لے کر امریکہ کے معروف ہفتہ وار سیاسی پروگراموں تک نمایاں ہو چکی ہے۔
امریکی انتظامیہ کے اندر والٹز کو اس لیے اہمیت حاصل ہے کہ وہ ان چند عہدے داروں میں شامل ہیں جو عسکری پس منظر کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر گہری دسترس رکھتے ہیں۔ امریکی ویب سائٹ Axios کے مطابق والٹز کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ صرف قدامت پسند میڈیا بلکہ دیگر تمام بڑے نیٹ ورکس پر انتظامیہ کا موقف انتہائی مؤثر اور پُر کشش انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اتوار کے روز وہ بیک وقت تین بڑے امریکی نیٹ ورکس ABC، CBS اور NBC کے اہم ترین پروگراموں میں نظر آئے، جو وائٹ ہاؤس کے ان پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہے۔
گذشتہ سال "سگنل گیٹ" نامی واقعے کی ذمے داری قبول کرنے کے بعد، جس میں یمن پر عسکری حملے کی مشاورت کرنے والے اعلیٰ عہدے داروں کے گروپ میں غلطی سے ایک صحافی شامل ہو گیا تھا، والٹز نے اپنی حیثیت کو دوبارہ مستحکم کیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں ایرانی حکام کے ساتھ سفارتی مقابلوں اور سلامتی کونسل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے کامیابیاں حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کامیابیوں میں خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی عالمی مذمت، تہران پر بین الاقوامی پابندیوں کی بحالی، اور غزہ سے متعلق امریکی امن منصوبے کی حمایت شامل ہے۔
فلوریڈا سے سابق رکن کانگریس اور امریکی ایلیٹ فورسز کے سابق افسر ہونے کے ناطے، والٹز ایران کے خلاف سخت ترین موقف رکھنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کرنے میں ایران کے کردار کی وجہ سے اس کے خلاف فوجی کارروائی کے مسلسل حامی رہے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ کے بعض حامی غیر ملکی فوجی مداخلتوں میں کمی کے خواہاں ہیں، تاہم والٹز کا دوٹوک موقف برقرار ہے۔
یکم مارچ کو اقوام متحدہ میں والٹز اور ایرانی سفیر سعید ایروانی کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ جب ایرانی سفیر نے والٹز پر غیر مہذب ہونے کا الزام لگایا تو والٹز نے جواب دیا کہ وہ ایسے نظام کے نمائندے کو مزید کوئی جواب نہیں دیں گے جس نے آزادی کا مطالبہ کرنے پر اپنے ہی ہزاروں شہریوں کو قتل اور قید کیا ہو۔ وائٹ ہاؤس کے مشیروں کے مطابق صدر ٹرمپ والٹز کے اس جارحانہ اور پُر اعتماد انداز کو بے حد پسند کرتے ہیں اور اسے موجودہ بحران میں ایران سے نمٹنے کے لیے اپنی انتظامیہ کی بہترین عکاسی قرار دیتے ہیں۔
-
ڈونلڈ ٹرمپ کے 'بورڈ آف پیس' کی ڈی پی ورلڈ سے غزہ کی تعمیر، نو پر گفتگو: فنانشل ٹائمز
غزہ کی بحالی پر تقریباً 70 بلین ڈالر کے اخراجات کا تخمینہ، فریقین میں شراکت داری ...
مشرق وسطی -
ٹرمپ کا ایران پر 'متعدد بار' جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام
جنگ بندی بدھ کو ختم ہونے والی ہے، توسیع کا امکان بہت کم ہے
مشرق وسطی -
"جوہری غبار"... ٹرمپ کی جانب سے ایرانی یورینیم کو دیے گئے نام کا راز
ٹرمپ کی یہ اصطلاح محض اپنے سائنسی مفہوم تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ افزودہ یورینیم ...
بين الاقوامى