ٹرمپ کی مہلت پر بے چینی... اور واشنگٹن "متفقہ ایرانی موقف" کا منتظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے باوجود کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 8 اپریل کی صبح سے جاری جنگ بندی کے خاتمے کی کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی، یہ معاملہ تا حال ابہام کا شکار ہے۔ خصوصاً اس لیے کہ امریکی حکام نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکی صدر ایران کو جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ تجویز پر اتفاق کرنے کی خاطر محض چند دن دیں گے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہل کار اور امریکی ذرائع نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ ڈونلڈ ٹرمپ موجودہ جنگ بندی میں تین سے پانچ روز کی توسیع کے لیے تیار ہیں۔ امریکی ویب سائٹ "ایکسیوس" اور "فوکس نیوز" چینل کے مطابق گذشتہ منگل کو جس توسیع کا اعلان کیا گیا تھا، اس کا مقصد اسے قلیل مدتی رکھنا ہی تھا۔ امریکی نیٹ ورک "سی این این" کے مطابق اندرونی بات چیت سے واقف دو ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ تہران کو مذاکرات کی بحالی اور سفارتی عمل کے دوبارہ آغاز کے لیے مشترکہ تجویز پیش کرنے کی خاطر ایک محدود وقت دینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے گذشتہ شام صحافیوں کو بتایا کہ امریکی صدر نے ایران کے لیے تجویز پیش کرنے کی کوئی حتمی تاریخ متعین نہیں کی، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حتمی طور پر وقت کا تعین ڈونلڈ ٹرمپ خود کریں گے۔ ٹرمپ نے جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے کچھ دیر قبل یکطرفہ طور پر اس میں توسیع کی تھی اور اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ "جارحانہ کارروائیاں اس وقت تک رکی رہیں گی جب تک ایرانی قیادت مذاکرات کے لیے ایک متفقہ موقف پیش نہیں کرتی۔"

توسیع کا یہ فیصلہ امریکی انتظامیہ کے ان دعوؤں کے بیچ سامنے آیا ہے کہ ایرانی نظام میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور ایٹمی فائل میں رعائتیں دینے کے معاملے پر سخت گیر اور عملیت پسند گروہوں کے درمیان پھوٹ پڑ چکی ہے۔ امریکی ذرائع نے ایرانی نظام کے اندر اختلافات کی طرف اشارہ کیا ہے، جس کی وجہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے واضح ہدایات کا نہ ہونا بتائی جاتی ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای، جنہیں گذشتہ مارچ میں ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی 28 فروری کو جنگ کے پہلے روز تہران پر ہونے والی شدید اسرائیلی و امریکی فضائی بمباری میں ہلاکت کے بعد مقرر کیا گیا تھا، تاحال منظرِ عام پر نہیں آئے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور دو ہفتے قبل اسلام آباد میں ہوا تھا، جو کسی نتیجے یا معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا تھا۔ اگرچہ بدھ (22 اپریل) کو پاکستان میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان دوسرے دور کی میعاد طے تھی، لیکن دونوں جانب سے سخت بیانات دوبارہ سامنے آنے لگے ہیں جس سے کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایران نے موقف اپنایا ہے کہ اپنی بندرگاہوں کے محاصرے کی موجودگی میں جنگ بندی یا اس میں توسیع کی کوئی اہمیت نہیں، جبکہ امریکی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ محاصرہ برقرار رہے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ یہ معاشی محاصرہ تہران کو بمباری سے زیادہ خوفزدہ کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں