فائرنگ کے واقعے کے بعد ٹرمپ کی سکیورٹی کے انتظامات کی جانچ پڑتال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ہفتے کی رات واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی تنظیم کے عشائیے کے دوران سیکرٹ سروس کے ایک اہل کار پر فائرنگ کے واقعے نے امریکہ میں بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد کے تناظر میں رہنماؤں کی سکیورٹی پر دوبارہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس واقعے نے اسی ہوٹل میں سابق صدر رونالڈ ریگن پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی یاد تازہ کر دی ہے۔

اس سالانہ تقریب کی سکیورٹی کے لیے سیکڑوں اہل کار تعینات تھے، جہاں صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی موجود تھے۔ اس کے باوجود ایک مسلح شخص رائفل اور دیگر ہتھیاروں کے ساتھ اس ہال کے عین اوپر والی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا جہاں صدر کے ساتھ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور کابینہ کے دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔

اگرچہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ سکیورٹی اداروں کی ناکامی تھی یا باہمی رابطے کا فقدان، لیکن 2024 کی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ پر ہونے والے دو قاتلانہ حملوں کے بعد اس واقعے نے اہم شخصیات کی سکیورٹی میں موجود کمزوریوں کو پھر سے اجاگر کیا ہے۔ واشنگٹن کے پولیس چیف کے مطابق مسلح شخص ہوٹل کا ہی ایک مہمان تھا۔

واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے ایمرجنسی ٹیموں اور سیکرٹ سروس کی کارکردگی کو سراہا، تاہم ہوٹل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ عمارت خاص طور پر محفوظ نہیں ہے۔

یاد رہے کہ 30 مارچ 1981 کو اسی ہوٹل کے باہر ایک سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا تھا جب وہ ایک تقریب سے خطاب کے بعد باہر نکل رہے تھے۔ حالیہ عشائیے کے دوران 2600 کے قریب شرکاء کو ہال میں داخلے کے لیے میٹل ڈیٹیکٹرز سے گزارا گیا، لیکن ہوٹل میں داخلے کے لیے صرف ٹکٹ دکھانا ہی کافی تھا کیونکہ وہ عام مہمانوں کے لیے بھی کھلا ہوا تھا۔

ہوٹل کے باہر ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے بھی ہو رہے تھے، جس کی وجہ سے منتظمین شرکاء کو تیزی سے اندر بھیج رہے تھے۔ وڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح شخص ایک راہ داری سے سکیورٹی پوائنٹ کو پار کر کے تیزی سے گزرا اور قابو پانے سے قبل اس نے سیکرٹ سروس کے ایک اہل کار کو گولی مار کر زخمی کر دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں