ہفتے کی رات واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی تنظیم کے عشائیے کے دوران سیکرٹ سروس کے ایک اہل کار پر فائرنگ کے واقعے نے امریکہ میں بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد کے تناظر میں رہنماؤں کی سکیورٹی پر دوبارہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس واقعے نے اسی ہوٹل میں سابق صدر رونالڈ ریگن پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی یاد تازہ کر دی ہے۔
اس سالانہ تقریب کی سکیورٹی کے لیے سیکڑوں اہل کار تعینات تھے، جہاں صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی موجود تھے۔ اس کے باوجود ایک مسلح شخص رائفل اور دیگر ہتھیاروں کے ساتھ اس ہال کے عین اوپر والی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا جہاں صدر کے ساتھ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور کابینہ کے دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔
المحلل السياسي إيهاب عباس: تصريحات ترمب بعد محاولة اغتياله كانت "متزنة" لأنه يريد إنهاء حالة الانقسام الداخلي pic.twitter.com/Sl4HuhMlN9
— العربية (@AlArabiya) April 26, 2026
اگرچہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ سکیورٹی اداروں کی ناکامی تھی یا باہمی رابطے کا فقدان، لیکن 2024 کی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ پر ہونے والے دو قاتلانہ حملوں کے بعد اس واقعے نے اہم شخصیات کی سکیورٹی میں موجود کمزوریوں کو پھر سے اجاگر کیا ہے۔ واشنگٹن کے پولیس چیف کے مطابق مسلح شخص ہوٹل کا ہی ایک مہمان تھا۔
مراسلة العربية ريتا سليمان: المتهم بمحاولة اغتيال ترمب سيواجه عدة تهم أهمها حيازة الأسلحة واستهداف مسؤولين في الإدارة الأميركية.. والسلطات تتخذ إجراءات أمنية مشددة بمحيط البيت الأبيض pic.twitter.com/xMWcEQGI8D
— العربية (@AlArabiya) April 26, 2026
واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے ایمرجنسی ٹیموں اور سیکرٹ سروس کی کارکردگی کو سراہا، تاہم ہوٹل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ عمارت خاص طور پر محفوظ نہیں ہے۔
یاد رہے کہ 30 مارچ 1981 کو اسی ہوٹل کے باہر ایک سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا تھا جب وہ ایک تقریب سے خطاب کے بعد باہر نکل رہے تھے۔ حالیہ عشائیے کے دوران 2600 کے قریب شرکاء کو ہال میں داخلے کے لیے میٹل ڈیٹیکٹرز سے گزارا گیا، لیکن ہوٹل میں داخلے کے لیے صرف ٹکٹ دکھانا ہی کافی تھا کیونکہ وہ عام مہمانوں کے لیے بھی کھلا ہوا تھا۔
ہوٹل کے باہر ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے بھی ہو رہے تھے، جس کی وجہ سے منتظمین شرکاء کو تیزی سے اندر بھیج رہے تھے۔ وڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح شخص ایک راہ داری سے سکیورٹی پوائنٹ کو پار کر کے تیزی سے گزرا اور قابو پانے سے قبل اس نے سیکرٹ سروس کے ایک اہل کار کو گولی مار کر زخمی کر دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
-
پاکستان عراقچی کی واپسی کا منتظر... ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ میں "فتح" کے لیے پرُ عزم
ایرانی وزیر خارجہ کا عمان میں مذاکرات سے متعلق "تہران کے موقف" پر تبادلہ خیال
مشرق وسطی -
قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل: ممکنہ طور پر ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکار فائرنگ کا نشانہ تھے
امریکہ کے قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانشے نے اتوار کے روز اس یقین کا اظہار کیا ہے ...
بين الاقوامى -
'میں نے قتل کے واقعات کا مطالعہ کیا ہے': ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایک فلسفیانہ لہجہ اختیار کیا جب ایک شوٹر نے ...
بين الاقوامى