پاکستان عراقچی کی واپسی کا منتظر... ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ میں "فتح" کے لیے پرُ عزم

ایرانی وزیر خارجہ کا عمان میں مذاکرات سے متعلق "تہران کے موقف" پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستان جو تہران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی قیادت کر رہا ہے، اتوار کے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ایک اور دورے کا منتظر ہے۔ یہ دورہ اس جنگ کے خاتمے کی کوششوں کا حصہ ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے "فتح" حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

عباس عراقچی اس ہفتے کے آخر میں دوسری بار اسلام آباد پہنچیں گے۔ ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دو خصوصی نمائندوں، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا متوقع دورہ پاکستان منسوخ کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکی و اسرائیلی حملے سے شروع ہونے والی اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے اب تک کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ اس سے قبل اپریل میں ہی اسلام آباد میں براہ راست مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا، تاہم جنگ بندی کے حوالے سے کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے جمعہ کو اسلام آباد سے اپنے غیر ملکی دورے کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد وہ مسقط گئے اور اب وہ دوبارہ پاکستان واپس آ رہے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان کے وفد کے کچھ ارکان مشاورت اور جنگ کے خاتمے سے متعلق ضروری ہدایات حاصل کرنے کے لیے تہران گئے تھے، جو اتوار کی رات دوبارہ اسلام آباد میں وزیر خارجہ کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔ عمان میں عباس عراقچی نے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کی جس میں علاقائی صورتحال اور ثالثی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سے قبل پاکستان میں انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقاتیں کی تھیں۔ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران یہ دیکھ رہا ہے کہ آیا امریکہ سفارت کاری کے معاملے میں واقعی سنجیدہ ہے یا نہیں۔

دوسری جانب واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ایک پروگرام کے دوران ہونے والی فائرنگ انہیں ایران کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی۔ انہوں نے اپنے نمائندوں کا دورہ منسوخ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے نمائندے 18 گھنٹے کا طویل سفر محض "بے سود گفتگو" کے لیے کریں۔ ٹرمپ کے مطابق اگر ایرانی مذاکرات چاہتے ہیں تو انہیں صرف ایک فون کال کرنا ہو گی۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایرانیوں نے ایک نئی دستاویز پیش کی ہے جو سابقہ دستاویز سے بہتر ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان ایک غیر جانب دار اور مخلص ثالث کے طور پر خطے میں پائیدار امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، تاہم فریقین کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ خلیج میں بحری تناؤ عروج پر ہے، جہاں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے جبکہ تہران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایران کی "حتمی حکمت عملی" ہے۔

ادھر لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے امکانات خطرے میں ہیں۔ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بھرپور حملوں کی ہدایت کے بعد اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان کے کم از کم چار قصبوں پر بم باری کی ہے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے حزب اللہ کی فوجی عمارات کو نشانہ بنایا ہے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق حالیہ اسرائیلی حملوں میں مزید 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ مارچ کے آغاز سے اب تک لبنان میں ہلاکتوں کی تعداد 2496 تک پہنچ چکی ہے اور 10 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں