امریکا کی لبنان صورتحال پر تشویش، اسرائیل کو تحمل کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، اگرچہ فریقین کے درمیان جنگ بندی موجود ہے۔

اس صورتحال کے باوجود امریکی انتظامیہ کے اہلکاروں نے بدھ کے روز بتایا کہ واشنگٹن نے اسرائیل سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور صبر سے کام لینے کی درخواست کی ہے تاکہ سفارتی عمل کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران اسرائیلی آرمی چیف نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔


امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حزب اللہ جنگ بندی معاہدے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ لبنانی اور امریکی حکام دونوں کو خدشہ ہے کہ یہ معاہدہ مئی کے وسط میں اپنی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی ناکام ہو سکتا ہے۔

اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن ایک نئے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں لبنانی فوج کو مضبوط بنانے کے اقدامات بھی شامل ہیں، تاہم لبنان کی قیادت اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور دونوں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔

مزید یہ کہ امریکی انتظامیہ ایک ممکنہ سہ فریقی سربراہی اجلاس کی کوشش کر رہی ہے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون شامل ہوں گے، لیکن یہ منصوبہ ابھی زمینی اور سیاسی حالات پر منحصر ہے کیونکہ عسکری کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔

لبنان میں فوجی کارروائیوں میں اضافہ

لبنان میں فوجی کارروائیوں میں اضافے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ''اکسیوس ''کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے انہیں حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت سے آگاہ کیا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق انہوں نے اس ہفتے نیتن یاہو سے روزانہ رابطہ رکھا ، اسرائیلی وزیرِاعظم نے زور دیا کہ جاری حملوں کے جواب میں فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا جانا چاہیے۔

ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو مشورہ دیا کہ ردعمل زیادہ ''مرکوز'' ہونا چاہیے اور عمارتوں کی بڑے پیمانے پر تباہی سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس سے اسرائیل کی عالمی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے گزشتہ جمعرات کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان 17 اپریل سے جاری جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا تھا، جو وائٹ ہاؤس میں دونوں ممالک کے سفیروں کے درمیان مذاکرات کے بعد سامنے آیا تھا، تاہم اس کے باوجود خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا آغاز 2 مارچ کو لبنان تک پھیلا، جب حزب اللہ نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ردعمل میں اسرائیل پر میزائل فائر کیے، جو 28 فروری کو ایران پر امریکی-اسرائیلی حملے کے پہلے دن ہوا تھا۔

اس کے بعد اسرائیل نے لبنان پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے اور زمینی کارروائیاں بھی شروع کیں اور جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان کے بعض علاقوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size