ایران جنگ

ابھی تک امریکی تجویز کے بارے میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچے: ایران

ٹرمپ نے اپنی تجویز پر فوری جواب طلب کیا، ایرانی رد عمل آج آ سکتا ہے: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ تہران دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے حالیہ امریکی تجویز کے بارے میں ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچا ہے۔ نیوز ایجنسی ’’ تسنیم ‘‘کے مطابق اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران نے امریکہ کو ابھی تک کوئی جواب فراہم نہیں کیا۔ دوسری جانب ایک امریکی اہلکار نے ویب سائٹ "ایکسیس" کو بتایا کہ ایران واشنگٹن کی تجویز پر اپنا جواب جمعہ کو دے گا۔

براہ راست ملاقاتوں کے لیے انتظامات نہیں

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد علاقائی امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بارے میں جاننے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ فریقین معاہدے پر دستخط کرنے کے کتنا قریب یا دور ہیں ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کا ملک پرامید ہے۔ ایک پاکستانی ذریعے نے ’’ العربیہ/الحدث ‘‘ کو انکشاف کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ملک کی تجویز پر فوری جواب طلب کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی جواب آج دیا جا سکتا ہے۔ ذریعے نے یہ بھی کہا کہ اس وقت ایرانیوں اور امریکیوں کے درمیان کسی بھی براہ راست ملاقات کے انتظامات نہیں ہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات چیت اب بھی جاری ہے اور اس بات کی تصدیق کی کہ افہام و تفہیم تک پہنچنا اب بھی ممکن ہے۔

یہ جلد ختم ہو جائے گا

واضح رہے امریکی صدر، جنہوں نے 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کے امکان کی بارہا تشہیر کی ہے، بدھ کی شام پرامید نظر آئے تھے۔ انہوں نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بہت اچھی بات چیت کی ہے اور یہ بہت ممکن ہے کہ ہم کسی معاہدے تک پہنچ جائیں۔ انہوں نے بعد میں یہ بھی کہا کہ معاملہ جلد ختم ہو جائے گا۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف ان رپورٹس کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار نظر آئے جن میں اشارہ کیا گیا تھا کہ دونوں فریق معاہدے کے قریب ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایسی رپورٹس امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے کھولنے میں ناکامی کے بعد محض گمراہ کن پروپیگنڈا ہیں۔ امریکی اور ایرانی نے اپریل کے اوائل میں اسلام آباد میں براہ راست طویل مذاکرات کا پہلا دور منعقد کیا تھا تاہم اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اس کے نتیجے میں ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کد بحری ناکہ بندی کرلی۔ تہران نے اہم آبنائے ہرمز کی عملی بندش جاری رکھی ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں