ایران نے دو اہم یورپی ملکوں کو انتباہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے دور رہیں اور فوج بھیجنے سے گریز کریں ، بصورت دیگر ایران کا جواب فوری اور فیصلہ کن ہوگا۔ ایران کی طرف سے فرانس اور برطانیہ کو انتباہ ان اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کو رواں اور محفوظ بنانے کے لیے یہ مشترکہ کوششوں کے تحت اقدام کے طور پر اپنے جنگی جہاز بھیج سکتے ہیں۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا ہے 'ہم یاد کراتے ہیں کہ جنگ کا زمانہ ہو یا امن کا دور صرف اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کا اہتمام کرے گا۔ ایران کے علاوہ کسی بھی ملک کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ آبنائے ہرمز کے امور میں مداخلت کرے۔'
دریں اثناء فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے اتوار ہی کے روز ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ ایران نے کبھی بھی آبنائے ہرمز میں اپنی بحریہ کی تعیناتی کا نہیں سوچا ہے۔ سوائے ایران کی ہم آہنگی کے ساتھ ایک سیکیورٹی مشن کے۔
نیروبی میں ایک پریس کانفرس کے دوران فرانس کے صدر نے کہا اس بارے میں ہم بڑے واضح ہیں اور ہرمز میں بحری تعیناتی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
واضح رہے فرانس اور برطانیہ اس کوششوں کو لے کر چل رہے ہیں جس کا مقصد آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد کی تشکیل کرنا ہے۔ تاہم یہ اتحاد مجوزہ طور پر امریکہ و ایران کے درمیان امن ہو جانے کے بعد بروئے کار آئے گا۔