پاکستان اور چین کی امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعہ ختم کرانے کی کوششوں پر مشاورت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان کے وزیر خارجہ محمد اسحق ڈار نے اپنے چینی ہم منصب وانگ ای کے ساتھ خطے کی تازہ صورتحال اور امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعہ ختم کرانے کے لیے اسلام آباد کی ثالثی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں جانب سے مستقل جنگ بندی جاری رکھنے کی اہمیت اور آبنائے ہرمز کے ذریعے معمول کی آمد و رفت کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔

یہ ٹیلی فونک رابطہ رواں ہفتے بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان طے شدہ مذاکرات سے قبل ہوا ہے۔

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ امریکی انتظامیہ نے براہ راست ایرانی حکام سے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایران کے ساتھ معاہدے کی طرف تیزی سے بڑھنے کی ضرورت ہے لیکن ہم جلد بازی نہیں کریں گے۔ انہوں نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ ہمیں معاہدے تک پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔

انہوں نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ تہران سو فیصد یورینیم کی افزودگی روک دے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی حکومت کو ایٹمی ہتھیار تیار کرنے سے روک دیا جائے گا اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر یہ محض وقت کی بات ہے۔

نیوکلیئر ڈسٹ

اسی طرح انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی حملوں نے ایران کی فوجی قیادت اور صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کا ملک وہ حاصل کر لے گا جسے انہوں نے نیوکلیئر ڈسٹ (ایٹمی گرد) قرار دیا، جو کہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کے اس ذخیرے کی طرف اشارہ ہے جو ابھی تک ایرانی سرزمین میں زیر زمین موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تنازع کسی عجلت کے بغیر حل ہو جائے گا اور اشارہ دیا کہ تہران کو شدید تنہائی کا سامنا ہے جو اسے آمدنی کے ذرائع سے محروم کر رہی ہے۔ ان کا اشارہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری محاصروں کی طرف تھا۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ بحری محاصرے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دباؤ کے باعث ایرانی معیشت تباہ ہو جائے گی۔

امریکی صدر نے گذشتہ پیر کی شام جنگ کی واپسی کے امکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران کے ساتھ جنگ بندی ’آئی سی یو‘ میں داخل ہو چکی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ معاہدہ خاتمے کے قریب ہے۔

انہوں نے گذشتہ ہفتے معطل کیے جانے والے پراجیکٹ فریڈم کو دوبارہ فعال کرنے کے امکان کا بھی ذکر کیا تاکہ اس کے ذریعے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی رہنمائی کی جا سکے۔ یہ اعلان اس کے آغاز کے ایک دن بعد ہی سامنے آیا تھا۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے تازہ ترین امریکی تجویز پر ایرانی ردعمل پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔

اعلیٰ افزودہ یورینیم کی منتقلی، ایران کے اندر افزودگی کے عمل کو روکنے اور بغیر کسی ایرانی پابندی کے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا معاملہ اب بھی امریکی اور ایرانی فریقین کے درمیان تنازع کا سبب بنا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں