تائیوان کی وزارت خارجہ نے چین کو علاقائی امن اور استحکام کے لیے "واحد خطرہ" قرار دیا ہے۔ یہ موقف چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس انتباہ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تائیوان کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔
تائیوان کی وزارت خارجہ نے آج جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ "بیجنگ کے حکام اس وقت علاقائی امن اور استحکام کے لیے واحد خطرہ ہیں"۔ بیان میں اشارہ کیا گیا کہ چین کی جانب سے "فوجی چھیڑ چھاڑ" اور تائیوان کے گردGrey Zone میں اس کی سرگرمیاں اس کا ثبوت ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ "بیجنگ کو بین الاقوامی سطح پر تائیوان کے نام پر کوئی بھی دعویٰ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے"۔
واضح رہے کہ شی جن پنگ نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے دوران تائیوان کے معاملے پر بات کی تھی۔ یہ وہ جزیرہ ہے جہاں جمہوری نظام حکومت قائم ہے جبکہ چین اسے اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور امریکہ اسے اسلحہ فراہم کرتا ہے۔
امریکی اور چینی صدور کے درمیان مذاکرات جو تقریباً سوا دو گھنٹے جاری رہے، ان کے بارے چین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر شی نے ٹرمپ کو بتایا کہ تائیوان امریکہ چین تعلقات کا اہم ترین مسئلہ ہے اور اس معاملے کو غلط طریقے سے نمٹانے کے نتیجے میں واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تصادم اور انتہائی سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
-
اربیل : ایرانی مخالف جماعت کے مرکز پر دو ڈرونز کے ذریعے حملہ
ایک عراقی سکیورٹی ذریعے کے مطابق کردستان کے دارالحکومت اربیل کے شمال میں ایک ...
مشرق وسطی -
سمندری واقعہ: اماراتی ساحل کے قریب جہاز کی مبینہ ضبطی، ایران منتقل کرنے کا دعویٰ
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساحل ...
مشرق وسطی -
ایرانی مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں... ہرمز ہمارے ساتھ ہم آہنگی سے کھلی رہے گی : عراقچی
ایران جنگ سے قبل یہ معمول تھا کہ آبنائے ہرمز میں کثیر جہاز رانی دیکھی جاتی تھی، جس ...
مشرق وسطی