لندن کے وسطی علاقوں میں ہفتے کے روز دسیوں ہزار افراد نے دو الگ الگ احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی، جن میں ایک مظاہرہ بڑھتی ہوئی ہجرت کے خلاف جبکہ دوسرا فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے نکالا گیا۔
برطانوی پولیس نے سیکیورٹی کے لیے چار ہزار اہلکار تعینات کیے، جن میں لندن سے باہر سے بلائی گئی اضافی نفری بھی شامل تھی۔
پولیس نے اسے کئی برسوں میں امن و امان برقرار رکھنے کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیتے ہوئے اختیارات کے سخت استعمال کا عزم ظاہر کیا۔
مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چھ بجے دونوں ریلیوں کے اختتام کے بعد پولیس نے بتایا کہ مختلف الزامات کے تحت 43 افراد کو گرفتار کیا گیا، تاہم دونوں احتجاج مجموعی طور پر کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کے بغیر اختتام پذیر ہوئے۔ پولیس کے مطابق کم از کم 80 ہزار افراد کی شرکت متوقع تھی۔
برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے جمعے کے روز ''یونائٹ دی کنگڈم ''احتجاج کے منتظمین پر نفرت اور تقسیم کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا تھا۔
ہجرت مخالف مظاہرے کا انعقاد اسلام مخالف کارکن اسٹیفن یاکسلی لینن المعروف ٹومی رابنسن نے کیا۔
حکومت نے اس احتجاج کے حوالے سے 11 ایسے افراد کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی عائد کی، جنہیں ''انتہاپسند دائیں بازو کے غیر ملکی اشتعال انگیز'' قرار دیا گیا۔
پولیس کے مطابق ٹومی رابنسن کی قیادت میں ستمبر میں ہونے والے ایک سابق احتجاج میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد شریک ہوئے تھے، جس میں امریکی ارب پتی ایلون مسک کا ویڈیو پیغام بھی چلایا گیا تھا۔
اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں 26 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے، جن میں چار شدید زخمی تھے۔پولیس نے بتایا کہ ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں میں بھی چار اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔
برطانیہ اور انگلینڈ کے جھنڈے نمایاں رہے
لندن میں ٹومی رابنسن کے حامیوں کے احتجاج کے دوران برطانیہ اور انگلینڈ کے جھنڈے نمایاں رہے، جبکہ مظاہرین نے ہجرت مخالف نعرے بھی لگائے۔
مظاہرے میں شریک ایلیسن بار نامی خاتون نے کہا کہ بہت زیادہ تعداد میں مہاجرین کی آمد نے یہاں کئی مسائل پیدا کیے ہیں اور معاشرتی توازن کو متاثر کیا ہے۔
برطانیہ میں سالانہ خالص ہجرت کی شرح 2022 اور 2023 میں تقریباً نو لاکھ تک پہنچ گئی تھی، تاہم ورک ویزا قوانین سخت کیے جانے کے بعد گزشتہ سال یہ تعداد کم ہو کر تقریباً دو لاکھ رہ گئی۔
چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آنے والے پناہ گزینوں سمیت مہاجرین سے متعلق خدشات نے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی مقبولیت کو متاثر کیا ہے، جبکہ دائیں بازو کی ریفارم پارٹی کی حمایت میں اضافہ دیکھا گیا۔تاہم پارٹی رہنما نائجل فاریج نے خود کو ٹومی رابنسن سے الگ رکھا ہے۔
احتجاج کے دوران بعض مظاہرین نے کیئر اسٹارمر کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ٹومی رابنسن نے مظاہرین سے خطاب میں کہا:ہم برطانیہ کی عظمت کو دوبارہ زندہ کر رہے ہیں۔ ثقافتی بیداری، ثقافتی انقلاب اور روحانی بیداری جاری ہے۔
یاد رہے کہ ٹومی رابنسن پر ماضی میں حملہ اور ہراساں کرنے سمیت مختلف الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔2021 کے مردم شماری اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں مسلمانوں کی آبادی 6اعشاریہ5 فیصد تھی، جبکہ 2011 میں یہ شرح تقریباً 4اعشاریہ9 فیصد تھی۔
فلسطین کے حامی مظاہرین نے یومِ نکبہ کی یاد منائی
فلسطین کے حامی مظاہرین نے لندن میں نکبہ کی یاد میں احتجاج کیا، جو 1948 کی جنگ کے بعد فلسطینیوں کی زمینوں سے بے دخلی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
مظاہرین نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے مطالبات پر مبنی پلے کارڈز بھی تھامے ہوئے تھے۔احتجاج میں شریک شارون ڈی ویٹ نے کہا:اسرائیل کا رویہ انتہائی ناانصافی پر مبنی ہے۔ ہولوکاسٹ اور دیگر مظالم کے بعد یہودی عوام کے لیے خیر ہی کی دعا کی جا سکتی ہے، لیکن امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فلسطینیوں کو اپنی ریاست قائم کرنے کا حق نہیں دیا جاتا۔
حالیہ عرصے میں لندن میں یہودی مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے آتشزدگی کے حملے بھی ہوئے، جبکہ گزشتہ ماہ دو یہودی افراد پر چاقو سے حملہ کیا گیا جسے دہشت گردی کے واقعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق فلسطین کے حق میں بار بار ہونے والے بڑے احتجاجی مظاہروں کے باعث بہت سے یہودی خود کو وسطی لندن آنے میں غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
اکتوبر 2023 میں حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے اب تک 33 احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جا چکے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مختلف نظریات رکھنے والے بعض مظاہرین کو نسلی یا مذہبی منافرت، امن عامہ میں خلل ڈالنے، نفرت انگیزی اور کالعدم تنظیموں کی حمایت جیسے الزامات میں گرفتار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
آج کے احتجاج کے دوران بعض افراد نے ''اسرائیلی فوج مردہ باد'' کے نعرے بھی لگائے، جن کے بارے میں پولیس نے کہا کہ اگر یہ نعرے یہودی افراد کو مخاطب کر کے لگائے جائیں تو ماضی میں ایسے افراد کو گرفتار کیا جاتا رہا ہے۔