گزشتہ دو دنوں کے دوران اس امکان میں اضافہ ہوا ہے کہ امریکہ دوبارہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آپشن کی طرف جا سکتا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق حال ہی میں امریکہ سے اسرائیل کی طرف ہتھیاروں اور گولہ بارود کی اضافی ترسیل کا سلسلہ بھی تیز ہوا ہے۔
اسی دوران ایک اور اسرائیلی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ تل ابیب کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین سگنل کا انتظار ہے تاکہ دوبارہ حملے شروع کیے جا سکیں۔
ان کے مطابق جیسے ہی یہ اجازت ملتی ہے، اسرائیل اور امریکہ مشترکہ طور پر ایران پر کارروائی کر سکتے ہیں، جیسا کہ اسرائیلی نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا ہے۔
توانائی کے مراکز
اس حوالے سے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اہداف کی فہرست میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے بھی شامل ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس نے گزشتہ جنگ کے دوران جو 28 فروری کو شروع ہوئی تھی، ان تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کی ہدایت دی تھی۔
اسی دوران مختلف امریکی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر دوبارہ فوجی حملوں کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔
ان رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے پہلے ہی ممکنہ اہداف کی فہرست اور عسکری منصوبے تیار کر لیے ہیں، اگر صدر نے جنگ کی جانب واپس جانے کا فیصلہ کیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ہر ممکنہ آپشن کے لیے تیار ہے۔
نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان ایک ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جو نصف گھنٹے سے زائد جاری رہا، جس میں ایران کے معاملے اور ممکنہ جنگ کی بحالی پر بات چیت کی گئی، جیسا کہ ویب سائٹ ''اکسیوس'' نے رپورٹ کیا۔
دوسری جانب پاکستان بھی مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے، جو گزشتہ مہینوں سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، تاکہ دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی طرف لایا جا سکے اور جنگ کے خاتمے کی راہ نکل سکے۔