امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تسلسل کے درمیان، روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاؤروف نے تصدیق کی ہے کہ "بوشہر" جوہری پلانٹ پر کوئی پابندیاں عائد نہیں ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ اس کے آپریشن سے متعلق امور روس اور ایران کے علاوہ کسی دوسرے فریق سے تعلق نہیں رکھتے۔
لاؤروف نے آج پیر کے روز استوائی گنی کے وزیرِ خارجہ سیمیون اویونو ایسونو انگوی کے ساتھ مذاکرات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا "جہاں تک بوشہر پلانٹ کا تعلق ہے، تو یہ تنصیب کسی قسم کی پابندیوں کے ماتحت نہیں ہے۔ اسے ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے 2015 کے معاہدے سے بھی مستثنیٰ کیا گیا تھا، اس لیے یہ معاملہ روس اور ایران کے علاوہ کسی اور سے متعلق نہیں ہے"۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ماسکو ایرانی اور امریکی فریقین کے درمیان مذاکرات میں مداخلت کی کوشش نہیں کر رہا۔ انہوں نے مذاکرات کی کامیابی کے لیے اپنی امید کا اظہار کیا۔ یہ بیان روسی خبر رساں ایجنسی "تاس" نے جاری کیا۔
دوسری طرف ایران کے لیے امریکہ کی پانچ شرائط کے بارے میں میڈیا رپورٹوں پر تبصرہ کرتے ہوئے، جن میں صرف ایک جوہری تنصیب کو برقرار رکھنے کی شق بھی شامل ہے لاؤروف کا کہنا تھا کہ "میں نے پڑھا ہے کہ اس سلسلے میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستانی ثالثوں یا دیگر ذرائع سے خط و کتابت جاری ہے.. لیکن میں ان معلومات کی صحت کی تصدیق نہیں کر سکتا"۔ انہوں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا "ہم نے کوئی تجاویز نہیں دیکھیں اور ہم مذاکرات کے اس عمل میں مداخلت کی کوشش نہیں کر رہے ہیں"۔
یاد رہے کہ جنوبی ایران میں واقع بوشہر پلانٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے ملک کے سب سے بڑے جوہری پلانٹس میں شمار ہوتا ہے۔ یہ روس کی روساٹوم کمپنی کے تعاون سے چلایا جاتا ہے جو جوہری ایندھن کی فراہمی اور عملے کی تربیت کی ذمہ دار ہے۔ دونوں ممالک نے دو اضافی ری ایکٹرز "بوشہر 2 اور 3" کی تعمیر کا معاہدہ بھی دستخط کر رکھا ہے۔ یہ تنصیب بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں بھی ہے۔
واضح رہے کہ لاؤروف کا یہ بیان ایرانی اور امریکی فریقین کے درمیان مذاکرات کے تسلسل اور پاکستان کے ذریعے تجاویز اور ترمیم شدہ متن کے تبادلے کے دوران سامنے آیا ہے۔ پاکستان کئی ماہ سے دونوں کے نقطہ ہائے نظر کو قریب لانے اور فروری کے آخر میں بھڑکنے والی جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
-
برلن کا مطالبہ: ایران یو اے ای پر حملے بند کرے، آبنائے ہرمز کو کھولے
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے پیر کو متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک پر ایرانی حملوں ...
مشرق وسطی -
ایران کی نوبل انعام یافتہ نرگس محمدی کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا
جیل میں انہیں جسمانی تشدد اور شدید بدسلوکی کا سامنا ہے
مشرق وسطی -
ایران کا طویل المدتی جنگ بندی اور بین الاقوامی ضمانتوں کے ساتھ معاہدے کا مطالبہ
پاکستانی ثالثی کے ذریعے امریکہ کو بھیجے گئے نئے ایرانی مسودے کی اہم ترین شرائط ...
مشرق وسطی