مصر میں غیر ملکیوں کی رہائش کو منظم کرنے کے لیے نیا فیصلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

نئی ہدایات کے تحت مصری حکام نے ملک میں مقیم تمام غیر ملکیوں سے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس، امیگریشن اینڈ نیشنلٹی سے رجوع کریں تاکہ اپنی رہائش کی حیثیت کو قانونی شکل دے سکیں، اقاموں کی تجدید کرا سکیں اور اسمارٹ اقامتی کارڈ حاصل کر سکیں۔

حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ غیر ملکی رہائشی مختلف شعبوں میں فراہم کی جانے والی سرکاری سہولیات اور خدمات سے مسلسل فائدہ اٹھا سکیں۔

ریاست نے ان غیر ملکیوں سے بھی اپیل کی ہے ،جو اقامتی فیس سے مستثنیٰ ہیں کہ وہ بھی پاسپورٹ و امیگریشن حکام سے رجوع کریں تاکہ ان کا ذاتی ڈیٹا درست طور پر رجسٹر کیا جا سکے اور انہیں باضابطہ استثنیٰ کارڈ جاری کیا جا سکے۔

کسی بھی سرکاری معاملے کے لیے بنیادی شرط

حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام ریاست کے جامع ڈیجیٹل تبدیلی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک میں مقیم غیر ملکیوں کے لیے تمام سرکاری اداروں کے ساتھ معاملات کو آسان بنانا ہے۔

اس مقصد کے لیے منظور شدہ اقامتی کارڈز کو بنیادی دستاویز کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

متعلقہ اداروں نے تمام غیر ملکی رہائشیوں کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقررہ مہلت ختم ہونے کے بعد ایسے کسی بھی غیر ملکی سے کوئی سرکاری ادارہ یا حکومتی محکمہ معاملہ نہیں کرے گا، جس کے پاس کارآمد اقامتی کارڈ یا باضابطہ استثنیٰ کارڈ موجود نہیں ہوگا۔

اس طرح قانونی حیثیت درست کروانا ملک میں کسی بھی قسم کے سرکاری کام کے لیے لازمی شرط بن جائے گا۔

90 لاکھ غیر ملکی و پناہ گزین

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مصر میں مقیم غیر ملکیوں اور تارکینِ وطن کی مجموعی تعداد تقریباً 90 لاکھ ہے، جو 133 سے زائد ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ اعداد و شمار عالمی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) کی رپورٹ اور مصری حکومت کے تخمینوں پر مبنی ہیں، جبکہ یہ تعداد مصر کی کل آبادی کا تقریباً 8اعشاریہ7 فیصد بنتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق خطے میں حالیہ بحرانوں، خصوصاً سوڈان اور شام کی صورتحال کے بعد اس تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے پاس رجسٹرڈ پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کی تعداد 9 لاکھ 14 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

مزید یہ کہ چار عرب اور افریقی قومیتیں ملک میں موجود غیر ملکی آبادی کا تقریباً 80 فیصد حصہ بناتی ہیں، جن میں سوڈانی شہری سرفہرست ہیں اور ان کی تعداد 40 لاکھ سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

سوڈانی شہری پہلے نمبر پر

سوڈانی شہریوں کے بعد شامی باشندے دوسرے نمبر پر آتے ہیں، جن کی تعداد تقریباً 15 لاکھ بتائی جاتی ہے، ان میں سے زیادہ تر 2012 سے مصر میں مقیم ہیں۔

ان کے بعد یمنی اور لیبی شہری ہیں، جن میں سے ہر ایک کی تعداد تقریباً 10 لاکھ کے قریب ہے۔

اس کے علاوہ جنوبی سوڈان، اریٹیریا، ایتھوپیا، صومالیہ اور عراق سمیت دیگر ممالک کے شہری بھی کم تعداد میں مصر میں رہائش پذیر ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 56 فیصد غیر ملکی صرف پانچ بڑے صوبوں میں مقیم ہیں، جن میں قاہرہ، الجیزہ، اسکندریہ، دمیاط اور الدقہلیہ شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں