ایران تنازعے پرایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد برطانیہ نے روسی تیل پر پابندیاں نرم کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

برطانوی حکومت نے روسی تیل پر عائد پابندیوں کو خاموشی سے ختم کر دیا ہے جو آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث برطانویوں کو ضروریاتِ زندگی کے مہنگے دباؤ سے نجات دلانے کی کوشش ہے۔

بدھ کو نافذ العمل ہونے والے ایک تجارتی لائسنس کے تحت روسی تیل درآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جسے بھارت اور ترکی جیسے فریقِ ثالث ممالک میں صاف کر کے جیٹ ایندھن اور ڈیزل بنایا گیا ہے۔

اس سلسلے میں برطانیہ کے وزیرِ خزانہ ڈین ٹاملِنسن نے کہا ہے کہ یہ تبدیلیاں "ایک محدود مدت اور ایک نہایت خاص مسئلے کے لیے ہیں۔"

برطانیہ 2022 میں روسی حملے کے بعد سے یوکرین کا مضبوط ترین اتحادی رہا ہے اور حکومت کا اصرار ہے کہ روس کے خلاف اس کی پابندیاں دنیا کی سخت ترین پابندیوں میں شامل ہیں۔

لیکن برطانوی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کی سربراہ اور قانون ساز ایملی تھورن بیری نے کہا ہے کہ یوکرینی اس اقدام سے "بہت مایوسی محسوس کریں گے"۔ انہوں نے کہا، یوکرین کے اتحادیوں کو چاہیے کہ وہ روس کی تیل کی صنعت پر دباؤ ڈالتے رہیں کیونکہ یہ ان کی معیشت کو مکمل طور پر مفلوج کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ نے بھی روس پر عائد پابندیوں میں نرمی کر دی ہے۔ اس ہفتے کے شروع میں امریکی سکریٹری خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے روس کے خلاف پابندیوں میں 30 روزہ نرمی میں توسیع کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں