امریکہ میں پیر کے روز مسجد اور اسلامک سنٹر پر فائرنگ کے واقعے میں حملہ آوروں کی گاڑی سے نفرت انگیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔ اسلامک سنٹر میں حملہ کرنے والوں کی تعدادا تین بتائی گئی ہے۔
امریکہ میں یہ واقعہ اسلامک سنٹر سان ڈیاگو میں پیش آیا ہے۔ اس واقعے میں تین افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف کے اس واقعے کی تحقیقات کرنے والے حکام نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے۔
اسلامک سنٹر پر حملہ آوروں میں 18 سالہ کیلب واسکیوئز ، 17 سالہ کین کلارک شامل ہیں۔ انہیں ان کی گاڑی میں مرا ہوا پایا گیا۔ کیونکہ حملہ ناکام بنانے کے لیے رکاوٹ دیکھتے ہوئے حملہ آورں نے پیر کے روز خود کو ختم کر لیا۔ پولیس نے اس معاملے کو تسلیم کیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق پیر کے روز پیش آنے والے اس واقعے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ اس میں نفرت انگیزی کے جرائم بھی شامل ہیں۔ تاہم تحقیقات کرنے والوں نے اس سلسلے میں مزید تفصیلات سامنے لانے سے فی الحال انکار کیا ہے کہ ان حملہ آوروں کے عزائم کیا تھے۔
دہشت گرد کلارک کی والدہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ تحقیقت کرنے والوں سے پورا تعاون کر رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے کی موت کو خود کشی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا گھر سے تین بندوقیں اس کارروائی کے لیے لے جانے کے علاوہ اپنی والدہ کی گاڑی بھی ان کی مرضی کے بغیر ہی لے گیا تھا۔
اسلامک سنٹر کی مسجد پر حملے سے قبل پولیس ایک مقامی شاپنگ مال اور لڑکوں کے سکول کی طرف دوڑی۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ شاپنگ مال کی طرف پولیس کا جانا کسی گرفتاری کے لیے جانا تھا یا کسی دوسرے واقعے کی اطلاع ملنے کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔ البتہ ابھی تک اس واقعے میں ملوث دہشت گردوں کے تعلقات اور باقی نیٹ ورک کا پتا نہیں چلایا جا سکا۔ اسلامک سنٹر میں سان ڈیاگو کی یہ سب سے بڑی مسجد ہے۔ جس میں تعلیم و تدریس کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ جسے پیر کے روز نشانہ بنایا گیا۔ تاہم تمام طلبہ محفوظ رہے ہیں۔
حملے دوران جاں بحق ہونے والے سیکیورٹی گارڈ امین عبداللہ کے اہل خانہ کے لیے 17 لاکھ ڈالر کی فنڈ ریزنگ کی گئی ہے۔ امین عبداللہ نے حملہ آوروں کی مزاحمت کر کے طلبہ کی جانیں بچائیں مگر اپنی جان قربان کر دی۔
سان ڈیاگو کے میئر کے مطابق پورے شہر میں اس واقعے کے بعد حفاظتی انتظامات بڑھا دیے گئے ہیں۔ بد قسمتی سے امریکی معاشرے میں انتہا پسندی بڑھ گئی ہے جس نے مسلم کمیونٹی میں تشویش پھیلا دی ہے۔