ماسکو کی ایران کو یورینیم کی منتقلی میں دوبارہ مدد کی پیشکش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روس نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کا فیصلہ صرف تہران کو خود کرنا چاہیے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے آج جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران سے متعلق معاملہ صرف سفارتی راستے کے ذریعے اور تہران کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ روس ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ حل، خصوصاً اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم سے متعلق معاملات میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔



مذاکرات میں لچک

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں ،جب یہ اطلاعات زیرِ گردش ہیں کہ ایران اور امریکہ دونوں اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کو چین منتقل کرنے کے امکان پر غور کر سکتے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی ثالثی کے ذریعے مسلسل تجاویز کے تبادلے اور مذاکرات میں کسی حد تک لچک دیکھی جا رہی ہے۔

اسی دوران توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر آج تہران پہنچیں گے، جو اسلام آباد کی جاری ثالثی کوششوں کا حصہ ہیں۔

ایران اس وقت امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے ایک نئے تجویز نامے کا جائزہ لے رہا ہے جس کا مقصد جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات ایک نازک مرحلے یا ''موڑ'' پر کھڑے ہیں، جہاں یا تو معاہدہ ہو گا یا پھر دوبارہ حملے شروع ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ 8 اپریل کو دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی کا آغاز ہوا تھا، تاہم اب تک مستقل امن معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

جوہری پروگرام، یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز کی پابندیوں سے متعلق معاملات اب بھی اہم رکاوٹیں بنے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں