امریکہ نے بدھ کے روز کیوبا کے سابق صدر راؤول کاسترو پر قتل کے الزامات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بحیرہ کیریبین میں واقع اس جزیرے کی کمیونسٹ حکومت پر واشنگٹن کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ کی مہم میں ایک بڑا اضافہ ہے۔
یہ فردِ جرم سرد جنگ کے بعد سے ان دو جانی دشمنوں کے درمیان تعلقات میں ایک نئے بگاڑ کی عکاس ہے۔ یہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیوبا میں حکومت کی تبدیلی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جہاں کاسترو کی قیادت میں کمیونسٹ اس وقت سے اقتدار پر قابض ہیں جب ان کے آنجہانی بھائی فیدل کاسترو نے 1959 میں انقلاب کی قیادت کی تھی۔
راؤول کاسترو اور کیوبا کی فوج کے پانچ لڑاکا پائلٹوں پر عائد الزامات 1996 میں پیش آنے والے ایک واقعے سے متعلق ہیں، جس میں کیوبا کے لڑاکا طیاروں نے ان طیاروں کو مار گرایا تھا جنہیں کیوبا کے جلاوطنوں کا ایک گروپ چلا رہا تھا۔
واضح رہے کہ94 سالہ کاسترو پر امریکی شہریوں کے قتل کی سازش کا ایک الزام، قتل کے چار الزامات اور طیاروں کو تباہ کرنے کے دو الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ وہ اس مہینے کے شروع میں کیوبا میں عوامی سطح پر نظر آئے تھے اور ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ انہوں نے جزیرے کو چھوڑا ہو یا انھیں امریکہ کے حوالے کیا جائے گا۔
امریکہ کی جانب سے غیر ملکی رہنماؤں پر مجرمانہ الزامات عائد کرنا ایک نادر مانی جانے والی بات ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ فردِ جرم مغربی نصف کرہ میں امریکی اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی انتھک کوششوں کی تازہ ترین مثال ہے۔
ٹرمپ نے بدھ کو ریاست کنیکٹی کٹ کے شہر نیو لندن میں کوسٹ گارڈ اکیڈمی میں منعقدہ ایک تقریب میں کہا کہ "ہوانا کے ساحلوں سے لے کر پاناما نہر کے کناروں تک، ہم بد امنی، جرم اور غیر ملکی مداخلت کی قوتوں کو نکال باہر کریں گے۔"