آج ایران سے متعلق جنگ کے بارے میں اعلان سامنے آنے کا امکان ہے: روبیو
گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ایسے خطوطِ عمل پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے ،جو ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کے بحران کے حل میں مدد دے سکتے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کے روز کہا کہ ایران سے متعلق جنگ کے بارے میں آج بعد میں کسی اعلان کا امکان ہے، امریکا نے خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر ایران کے معاملے پر پیش رفت حاصل کی ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ واشنگٹن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اس حوالے سے ایران کے جوہری پروگرام پر تکنیکی سطح کی بات چیت جاری ہے۔
نیودہلی میں اپنے بھارتی ہم منصب سبرامنیم جے شنکر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران روبیو نے کہا کہ ایران کی صورتحال پر مزید خبریں آج سامنے آ سکتی ہیں اور آنے والے چند گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے مثبت خبر ملنے کا امکان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں ایسے خطوط پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے، جو آبنائے ہرمز کے بحران کے حل کی طرف لے جا سکتے ہیں، تاہم واشنگٹن اس بات پر سخت مؤقف رکھتا ہے کہ ایران کو اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر کنٹرول نہیں کرنے دیا جائے گا۔
روبیو نے ایران کی معیشت کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی معیشت مکمل طور پر زوال پذیر ہے اور تہران اپنی معیشت پر سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مبینہ طور پر دنیا بھر میں سرگرمیوں پر وسائل خرچ کر رہا ہے۔
روبيو: قد نسمع أخبارا جيدة بشأن مضيق هرمز pic.twitter.com/opfNp4shN5
— العربية (@AlArabiya) May 24, 2026
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کی میزائل اور بحری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کرے گا۔
ان کے مطابق متوقع معاہدہ نہ صرف آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی خدشات کو کم کرے گا بلکہ یہ ایک ایسے عمل کا آغاز بھی ہوگا ،جو بالآخر اس ہدف تک پہنچے گا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں، جیسا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں۔
ایکسِیوس کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے بتایا ہے کہ امریکا اور ایران ایک ایسے معاہدے پر دستخط کے قریب ہیں جس میں 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع شامل ہوگی،اس دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا۔معاہدے کے مطابق ایران کو تیل آزادانہ طور پر فروخت کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ ایرانی جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے مذاکرات بھی کیے جائیں گے۔
روبيو: أحرزنا تقدما بشأن إيران بعد العمل مع دول الخليج pic.twitter.com/SiRslF8XEM
— العربية (@AlArabiya) May 24, 2026
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 60 روزہ مدت کے دوران آبنائے ہرمز کو کسی فیس کے بغیر کھولا جائے گا اور ایران ان بارودی سرنگوں کو ہٹانے پر بھی رضامند ہوگا، جو مبینہ طور پر اس نے اس آبی گزرگاہ میں نصب کی ہیں تاکہ بحری آمدورفت آزادانہ طور پر جاری رہ سکے۔
مسودہ معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، یورینیم افزودگی کے پروگرام کو عارضی طور پر معطل کرنے پر بات چیت کرے گا اور انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کم یا ختم کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کرے گا۔