میئر نیو یارک زہران ممدانی اتوار کو اسرائیل کے اعزاز میں منعقدہ سالانہ پریڈ میں شرکت نہیں کر رہے ہیں۔ چونکہ وہ فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں تو ان کی عدم شرکت کئی عشروں سے جاری سیاسی رسم کی خلاف ورزی ہے۔
اگرچہ یہ رسم کئی سالوں سے مختلف ناموں سے معروف رہی ہے لیکن اسرائیل ڈے پریڈ ہمیشہ میئرز، گورنرز اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے لیے ایک لازمی تقریب رہی ہے جو یہودی ریاست کے قیام کا جشن منانے والے اجتماع کا دل جیتنے کے خواہشمند ہوں۔ یہ اجتماع ففتھ ایونیو پر ہوتا ہے۔
ممدانی کے لیے البتہ ایسا نہیں ہے۔ دو ہفتے قبل میئر کے دفتر سے فلسطینی نکبہ کی یاد میں ایک ویڈیو جاری کی گئی تھی۔ یہ ایک عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں "تباہی" اور یہ 1948 کی عرب-اسرائیل جنگ کے دوران اندازاً 700,000 فلسطینیوں کی نقلِ مکانی کا بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ممدانی نے جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا، "میں نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ میں پریڈ میں شرکت نہیں کروں گا اور میں نے اسرائیلی حکومت کے بارے میں اپنے خیالات بہت زیادہ واضح کر دیے ہیں۔"
لیکن انہوں نے پولیس کی ایک بھاری نفری کا بھی وعدہ کیا ہے تاکہ پریڈ کا "بلاتعطل اور پرامن طریقے سے" انعقاد یقینی ہو۔
انہوں نے کہا، "اگرچہ میں شرکت نہیں کروں گا لیکن ہماری انتظامیہ ہفتوں سے تیاری کر رہی ہے تاکہ یہ یقینی ہو کہ پریڈ تمام شرکاء کے لیے محفوظ رہے۔"
شہر کی پولیس کمشنر جیسیکا ٹِش جو یہودی ہیں، نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ پریڈ میں شرکت کریں گی۔
"مارچ نہ کرنے کا فیصلہ میئر کا ہے اور میں نے فخر سے اس میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے،" انہوں نے پولیس ہیڈ کوارٹر میں ممدانی کے برابر کھڑے ہوئے کہا۔
میئر کی غیر موجودگی اگرچہ طویل عرصے سے متوقع تھی لیکن اس سے ان مخالفین کو تازہ تنقید کا موقع مل گیا ہے جو اسرائیلی حکومت پر ان کی تنقید کو یہود دشمنی سمجھتے ہیں۔
لانگ آئی لینڈ کے دی ہیمپٹن سیناگوگ کے سینئر ربی اور فاؤنڈیشن فار ایتھنک انڈرسٹینڈنگ کے صدر مارک شنیئر یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان بہتر تعلقات کی وکالت کرتے ہیں۔ انہوں نے ممدانی کے پریڈ میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کو "نیو یارک کے تمام یہودیوں کے چہرے پر طمانچہ" قرار دیا۔
انہوں نے کہا ، "ہم پر ایک احسان کریں، گھر پر رہیں۔ ہمیں آپ کی ضرورت نہیں، ہم آپ کی موجودگی نہیں چاہتے۔"
شنئیر نے ممدانی کی نکبہ والی ویڈیو کو بھی "پروپیگنڈا" کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جس کے بارے میں دیگر یہودی رہنما خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس عرصے کے دوران یہودی لوگوں نے بھی نقلِ مکانی کی تھی جسے ویڈیو میں نہیں دکھایا گیا۔
یہ ویڈیو نیو یارک شہر کے کسی موجودہ میئر کی جانب سے اس نوعیت کا پہلا اعتراف ہے۔ اس میں ایک ایسی خاتون کی کہانی بیان کی گئی ہے جو نو سال کی عمر میں بے گھر ہو گئی تھیں۔ انہوں نے اپنے گھر کی کمی کا احساس بیان کرتے ہوئے کہا تھا، "یہ فلسطین کی نرم پہاڑیاں ہیں جنہوں نے دراصل مجھے بہت متأثر کیا"۔
"میں مختلف جگہوں پر رہی ہوں اور میں ہمیشہ سے غیروں کی طرح رہی ہوں،" خاتون اینیا بشناق نے کہا۔
اسرائیل کے حامیوں نے غصے میں آکر کہا کہ ویڈیو میں مسلم اکثریتی ممالک سے وسیع پیمانے پر یہودیوں کی نقلِ مکانی یا ہولوکاسٹ میں ان کے قتلِ عام کا بھی اعتراف ہونا چاہیے تھا جس نے یہودی ریاست کے قیام کی مہم میں اہم کردار ادا کیا۔
امریکہ کی سب سے زیادہ یہودی آبادی پر مشتمل نیو یارک شہر کے میئر طویل عرصے سے اسرائیل کے واضح حامی رہے ہیں جو اکثر وہاں کا دورہ کرتے ہیں۔
غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر تنقید کے بعد حالیہ برسوں میں امریکیوں میں اسرائیل کے لیے حمایت کے رجحان میں تیزی سے اور خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔
شہر کے اولین مسلم میئر ممدانی فلسطین کی حمایت اور وکالت میں ثابت قدم رہے۔
انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل کو اپنا وجود برقرار رکھنے کا حق حاصل ہے لیکن اس نظامِ مراتب کے طور پر نہیں جو یہودی شہریوں کے حق میں ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے نیو یارک کے یہودیوں کے تحفظ کا عہد کیا ہے اور یہود دشمنی سے نمٹنے کے لیے شہر میں قائم ادارے کے کام کو نمایاں کیا ہے۔
-
ٹرمپ کی میئر نیویارک ظہران ممدانی سے ملاقات
ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیویارک سٹی کے ڈیموکریٹک میئر ظہران ممدانی نے جمعرات کو ...
بين الاقوامى -
سرکاری طور پر ... زہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلم میئر بن گئے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شدید مخالف زہران ممدانی نے آج جمعرات کے روز باقاعدہ طور ...
بين الاقوامى -
زہران ممدانی کی طرف سے گرفتاری کی دھمکی کے باوجود نیتن یاھو نیویارک کے دورے کے لیے پرعزم
اسرائیلی وزیر اعظم بن جمن نیتن یاھو نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی نیو یارک شہر کا ...
بين الاقوامى