ایران کی بیشتر جوہری سرگرمیاں رک گئی ہیں:رافیل گروسی کا انکشاف

عالمی ایجنسی کے ڈائریکٹر نے براکہ پاور پلانٹ پر ایرانی حملے سے نمٹنے کے اماراتی انداز کو سراہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران کی بہت سی جوہری سرگرمیاں رک گئی ہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ موجودہ جنگی صورتحال کی وجہ سے اور ایرانی پروگرام کو نشانہ بنائے جانے کے باعث اس کے جوہری پروگرام کے جائزے میں بنیادی تبدیلی آئی ہے۔

رافیل گروسی نے مزید کہا کہ ایران کی جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی بھی ایسے معاہدے تک پہنچنے کا تصور نہیں کیا جا سکتا جس میں معاہدے کی شقوں کی سختی سے تصدیق اور نگرانی شامل نہ ہو۔ انہوں نے اس حساس فائل میں بین الاقوامی معیارات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایجنسی کے کردار کی اہمیت پر زور دیا۔

اماراتی ردعمل کی تعریف

اسی تناظر میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے متحدہ عرب امارات کے براکہ جوہری توانائی پلانٹ پر ایرانی حملے سے نمٹنے کے لیے امارات کے تیز رفتار ردعمل کی تعریف کی ہے۔

رافیل گروسی نے اماراتی نیوکلیئر پاور پلانٹ کی سائٹ کا دورہ کرنے کے بعد کہاکہ جسے گذشتہ ماہ ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا کہ ایجنسی متحدہ عرب امارات کو تکنیکی اور اخلاقی مدد فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مرمت کا کام مکمل کرنے کے لیے متعدد سرگرمیاں انجام دی جائیں گی۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ "ہم متحدہ عرب امارات کو نہ صرف اخلاقی مدد فراہم کر رہے ہیں بلکہ تکنیکی مدد بھی دے رہے ہیں"۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات میں "فیڈرل اتھارٹی فار نیوکلیئر ریگولیشن" نے تصدیق کی تھی کہ الظفرہ کے علاقے میں براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کی اندرونی باڑ کے باہر ایک بجلی کے جنریٹر میں آگ لگنے کا واقعہ ڈرون حملے کا نتیجہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں