اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے خفیہ ایجنسی "موساد" کے نئے سربراہ رومان غوفمان کو دی جانے والی اپنی ہدایات کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
موساد کے سابق سربراہ ڈیوڈ برنیا اور نئے سربراہ رومان غوفمان کے درمیان عہدے کی تبدیلی کی تقریب کے دوران بنجمن نیتن یاھو نے واضح کیا کہ "موساد ایرانی ’جارحیت‘ کے خلاف ہماری جدوجہد میں ہمیشہ اگلی صفوں میں رہے گی اور گذشتہ برسوں سے ہماری جاری مستقل پالیسی کے تسلسل کے طور پر ہم ایرانی نظام کو تاریخ کا پہیہ پیچھے گھمانے کی اجازت نہیں دیں گے"۔
انہوں نے مزید کہاکہ "ہم اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت دیں گے اور نہ ہی اسے اپنے وجود کے لیے خطرہ بننے دیں گے"۔
بنجمن نیتن یاھو نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے دعویٰ کیاکہ "یہ خوفناک نظام بالاخر اس دنیا سے مٹ جائے گا اور ہم اس مقصد تک پہنچنے میں اس کی مدد کریں گے۔ یہ نظام ہمیں جوہری بموں اور ہزاروں مہلک بیلسٹک میزائلوں سے دوبارہ ڈرانے کے قابل نہیں رہے گا"۔
انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے واضح کیاکہ "یہ میری ہدایات اور احکامات ہیں اور یہی آپ کا مشن ہے۔ رومان، یہ آپ کا مشن ہے اور یہاں موجود تمام ہزاروں افراد کا مشن ہے"۔
بنجمن نیتن یاھو نے گذشتہ اپریل میں غوفمان کو اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی "موساد" کا نیا ڈائریکٹر مقرر کیا تھا اور توقع ہے کہ ان کی مدت ملازمت 5 سال تک رہے گی۔
بنجمن نیتن یاھو نے موساد کے سربراہ کے طور پر برنیا کی پانچ سالہ مدت کو اسرائیل کی تاریخ کے سب سے زیادہ "فیصلہ کن" مراحل میں سے ایک قرار دیا، انہوں نے مزید کہا کہ برنیا نے حالیہ برسوں میں "شاندار کامیابیوں اور کارناموں" کے ذریعے اسرائیل کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔