ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے نتائج کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کے درمیان ایک باخبر ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی کو تہران کے ساتھ عبوری معاہدے پر دستخط سے مشروط کر دیا ہے۔
ذرائع نے جمعرات کے روز العربیہ/الحدث کو بتایا کہ ٹرمپ نے ثالثی کرنے والے فریقوں کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ وہ معاہدے پر دستخط سے قبل ایران کے منجمد فنڈز جاری کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی مؤقف یہ ہے کہ مالی رعایتوں یا اثاثوں کی رہائی سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان مجوزہ عبوری معاہدے کو باضابطہ شکل دینا ضروری ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ بنیادی رکاوٹ منجمد ایرانی فنڈز کے ایک حصے کے استعمال کے طریقۂ کار سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے ایک تجویز زیرِ غور ہے، جس کے تحت ان منجمد رقوم کو جمع کرنے کے لیے ایک خصوصی فنڈ قائم کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی اثاثوں کے ایک حصے کی رہائی کے لیے موزوں طریقۂ کار پر مذاکرات اور مشاورت کا عمل بدستور جاری ہے اور فریقین اس معاملے کے قابلِ قبول حل کی تلاش میں ہیں۔
کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ عارضی امن معاہدے سے متعلق حالیہ مذاکرات میں کوئی نمایاں یا ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود لبنان میں جھڑپیں جاری ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق عراقچی نے بدھ کی شام کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکراتی عمل میں کوئی حقیقی پیش رفت حاصل نہیں ہوئی۔
عراقچی کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان رواں ہفتے کے اختتام تک کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کا بنیادی نکتہ ہے، جو پاکستان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں۔
ان کے مطابق ایران نے تاحال کسی امن معاہدے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔گزشتہ کئی ہفتوں سے ایران اور امریکا بالواسطہ مذاکرات میں مصروف ہیں تاکہ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ طے کیا جا سکے۔
اگرچہ گزشتہ ہفتے بعض مثبت اشارے سامنے آئے تھے، تاہم اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ نے زیرِ غور تازہ امریکی تجویز میں مزید سخت شرائط شامل کر دی ہیں، جبکہ تہران نے ابھی تک اس پر اپنا باضابطہ جواب نہیں دیا۔
ادھر حالیہ دنوں میں میدانِ عمل میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان حملوں کے تبادلے اور ایران کی جانب سے کویت، خصوصاً ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کے واقعات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔