ایران جنگ

11 سال پرانا امریکی قانون تہران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں رکاوٹ بن سکتا ہے

ایرانی جوہری معاہدہ جائزہ قانون کے تحت امریکی صدر کسی بھی ایرانی معاہدے پر دستخط کے پانچ دن کے اندر اسے کانگریس میں پیش کرنے کے پابند ہیں۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنا ابھی بھی ایک مشکل مرحلہ دکھائی دیتا ہے، تاہم دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں کی رضامندی ہی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔


ایک 11 سال پرانا امریکی قانون صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس صلاحیت کو محدود کر سکتا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی بحالی سے آگے بڑھ کر ایران کے ساتھ کوئی جامع معاہدہ کر سکیں۔

ایرانی جوہری معاہدہ جائزہ قانون(INARA) کے تحت امریکی صدر کسی بھی ایرانی معاہدے پر دستخط کے پانچ دن کے اندر اسے کانگریس میں پیش کرنے اور حکومتی عہدیداروں کی جانب سے اس پر بریفنگ فراہم کرنے کے پابند ہیں۔

قانون کے مطابق کانگریس کو معاہدے کا جائزہ لینے کے لیے دو ماہ تک کا وقت مل سکتا ہے، اس دوران معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکتا۔

اس عرصے میں ارکانِ کانگریس کو معاہدے کے حق یا مخالفت میں ووٹ دینے کا اختیار بھی حاصل ہوتا ہے، اگرچہ صدر کے پاس ویٹو کا آئینی اختیار برقرار رہتا ہے۔

امریکی جریدے پولیٹیکو کے مطابق اس قانون پر کانگریس میں دوبارہ توجہ مرکوز ہو رہی ہے۔ ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس خواکین کاسترو نے ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے اجلاس میں وزیر خارجہ مارکو روبیو سے کہا کہ اگر کوئی معاہدہ INARA کے تحت کانگریس کے جائزے کے لیے پیش کیا جاتا ہے تو وہ اسے کھلے ذہن کے ساتھ دیکھیں گے اور امید کرتے ہیں کہ دیگر ارکان بھی ایسا ہی کریں گے۔

انہوں نے انتظامیہ سے معاہدے کی تفصیلات سے کمیٹی کو آگاہ رکھنے کا مطالبہ بھی کیا۔بعد ازاں الینوائے سے ڈیموکریٹ رکن بریڈ شنائیڈر کے سوال پر مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکی انتظامیہ INARA قانون کی مکمل پابندی کرے گی۔

دوسری جانب بعض ریپبلکن رہنماؤں نے ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹ کی مسلح افواج کمیٹی کے چیئرمین راجر وِکر نے کہا کہ تہران کے ساتھ معاہدے کی کوشش امریکا کی کمزوری کا تاثر پیدا کر سکتی ہے۔

اسی طرح ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے خبردار کیا کہ ایسا معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ صدر ٹرمپ بالآخر ایران کے ساتھ کسی ایسے معاہدے کی منظوری نہیں دیں گے ،جسے وہ نقصان دہ سمجھتے ہوں۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ قانون INARA کے تحت کانگریس کے ارکان اپنے اختیارات کس حد تک استعمال کریں گے۔

تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سابق عہدیدار جو ایرانی فائل پر کام کر چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی بھی نوعیت کا معاہدہ، بشمول یورینیم سے متعلق معاملات، خودکار طور پر INARA قانون کے دائرۂ کار میں آ جاتا ہے۔

انہوں نے صدر ٹرمپ کے ایک سابق بیان کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کو اس بات پر رضامند ہونا ہوگا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا ایٹم بم حاصل نہیں کرے گا۔

ان کے مطابق ایسی شرائط ہی کسی معاہدے کو کانگریس کے جائزے کے لیے پیش کیے جانے کے لیے کافی ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ رکن جین شاہین نے زور دیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی معاہدہ یا مفاہمت کانگریس کے مقررہ جائزہ عمل کی مکمل پابندی کرے۔

اسی طرح ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کی مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ ذیلی کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک لالر نے کہا کہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی یا منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی جیسے معاملات ان نکات میں شامل ہوں گے ،جن کا کانگریس باریک بینی سے جائزہ لینا چاہے گی۔

اگرچہ صدر ٹرمپ کے پاس بالآخر کانگریس کی جانب سے معاہدے کی مخالفت میں منظور ہونے والی کسی قرارداد کو ویٹو کرنے کا اختیار موجود ہے، لیکن یہ قانون ایسے طریقہ کار کو لازمی بناتا ہے، جس کے تحت جائزے کی مدت کے دوران ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں باقاعدہ بحث اور ووٹنگ ہوگی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی ممکنہ معاہدہ نافذ ہونے سے پہلے وسیع سیاسی جانچ پڑتال اور کانگریس کے سخت جائزے کا سامنا کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں