امریکہ وٹرمپ

امیگریشن میں فراڈ کا الزام ... امریکی انتظامیہ 17 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے کوشاں

امریکہ کی تاریخ میں شہریت منسوخ کرنے کی سب سے بڑی مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ شہریت حاصل کرنے والے ان 17 افراد کی امریکی شہریت منسوخ کرنے کے لیے کوشاں ہے جن پر امیگریشن کے عمل کے دوران دھوکا دہی کا الزام ہے۔ یہ اقدام شہریت منسوخ کرنے کی اس مہم کا ایک بڑا پھیلاؤ ہے جسے ٹرمپ انتظامیہ نے دوبارہ بڑے پیمانے پر فعال کیا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی حکومت کی تاریخ میں شہریت منسوخ کرنے کے اختیارات کا اب تک کا سب سے بڑا استعمال ہے، جبکہ ماضی کی دہائیوں میں یہ اختیارات شاذ و نادر ہی استعمال کیے گئے تھے۔ تاریخی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 1990 سے 2017 کے درمیان محکمہ انصاف نے شہریت کے حامل شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے اوسطاً صرف 11 مقدمات سالانہ دائر کیے تھے۔

امریکی وفاقی قانون حکومت کو یہ اجازت دیتا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ امریکہ سے باہر پیدا ہونے والے شہریوں نے شہریت امیگریشن یا شہریت کے حصول کے عمل کے دوران دھوکا دہی یا اہم معلومات چھپا کر حاصل کی ہے، تو ان کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے مقدمہ چلایا جائے۔ ان معلومات میں مجرمانہ پس منظر یا امیگریشن کے عمل کے دوران ہونے والی دیگر خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ تاہم یہ عمل روایتی طور پر پیچیدہ اور طویل رہا ہے جس کے لیے وفاقی عدالتوں کے فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔

گذشتہ برس ٹرمپ کے دوبارہ وائٹ ہاؤس میں آنے کے بعد سے، انتظامیہ نے امیگریشن کے سخت قوانین کے ایک وسیع تر مہم کے حصے کے طور پر اس شعبے میں اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ سال 2025 میں محکمہ انصاف نے ان زمروں کو مزید وسیع کیا جنہیں شہریت منسوخ کرنے کے مقدمات میں ترجیح دی جاتی ہے۔ گذشتہ ماہ اس نے اسی طرح کے 12 مقدمات دائر کرنے کا اعلان کیا جو کہ گذشتہ برسوں میں اپنی نوعیت کے سب سے بڑے مقدمات تھے۔

امریکی پاسپورٹ (علامتی تصویر)
امریکی پاسپورٹ (علامتی تصویر)

نئی فہرست میں ایسے افراد شامل ہیں جن میں سے بعض سنگین اور پُر تشدد جرائم کے مجرم ہیں، جن میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم شامل ہیں، جبکہ دیگر دھوکہ دہی کے جرائم میں مجرم پائے گئے یا ان پر امیگریشن فائلوں میں دھوکا دہی کے الزامات ہیں۔

محکمہ انصاف نے ملک کے مختلف علاقوں کی وفاقی عدالتوں میں دائر کیے گئے مقدمات میں ذکر کیا ہے کہ جن افراد کو ہدف بنایا گیا ہے۔ انہوں نے امریکی شہریت حاصل کرنے کی درخواست دیتے وقت اپنی مجرمانہ سرگرمیوں یا اہم معلومات کو چھپایا تھا یا یہ کہ وہ "حسنِ سیرت و کردار" کی شرط پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے شہریت کے اہل ہی نہیں تھے، جو کہ شہریت حاصل کرنے کے بنیادی تقاضوں میں سے ایک ہے۔

اس مہم میں نشانہ بنائے جانے والے افراد میں ہیٹی کا ایک تارک وطن شامل ہے جس پر اپنی بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام ہے۔ سابق یوگوسلاویہ کا ایک شخص جو 15 سال سے کم عمر بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کا مجرم ہے۔ میکسیکو کا ایک تارک وطن جو نابالغوں کی واضح جنسی تصاویر رکھنے کا مجرم ہے۔ کولمبیا میں پیدا ہونے والا ایک سابق کیتھولک پادری جس پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام ہے۔ ان کے علاوہ فلپائنی نژاد ایک شخص جس نے بچے کے خلاف جنسی جرم کا اعتراف کیا ہے۔

اس فہرست میں ایک ہندوستانی تارک وطن بھی شامل ہے جس پر جعلی طریقے سے H-1B ورک ویزا کی درخواستیں دینے کا الزام ہے۔ ایک کولمبین منشیات فروش کی بیٹی جس پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ جمیکا میں پیدا ہونے والا ایک شخص جو آن لائن دھوکا دہی کا مجرم ہے۔ کیوبا میں پیدا ہونے والی ایک خاتون جس پر امریکی قبائل کے ایک کیسینو کے ساتھ دھوکہ دہی کا الزام ہے۔ ان کے علاوہ وہ دیگر افراد شامل ہیں جن پر جعلی شناخت استعمال کرنے کے الزامات ہیں۔

امریکی محکمہ انصاف کے قائم مقام وزیر ٹوڈ بلانچ نے کہا ہے کہ وزارت شہریت کے نظام کے غلط استعمال کے خلاف "صفر برداشت" (Zero Tolerance) کی پالیسی اپنائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہاں ایسے غیر ملکی موجود ہیں جنہوں نے جرائم کا ارتکاب کیا اور اپنے مجرمانہ ماضی کو چھپایا، جن میں منشیات فروش، جنسی زیادتی کرنے والے اور دھوکہ باز شامل ہیں"۔

اپنی طرف سے امریکی وزیر داخلہ مارکواین مولین نے اس بات پر زور دیا کہ انتظامیہ شہریت منسوخ کرنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو ملک بدر کرنے کے لیے "تمام قانونی راستے" استعمال کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ "امریکی شہریت ایک اعزاز ہے جسے سچائی اور ایمان داری سے حاصل کیا جانا چاہیے۔ جو شخص ملک میں آتا ہے اور قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے اور امیگریشن کے عمل کے دوران جھوٹ بولتا ہے، وہ اس اعزاز کو کھو دیتا ہے"۔

قانون کے مطابق ہدف بنائے جانے والے افراد کو عدالتوں کے سامنے حکومت کے فیصلوں کو چیلنج کرنے کا حق حاصل ہے تاکہ وہ اپنی شہریت برقرار رکھ سکیں۔ شہریت منسوخ ہونے کی صورت میں وہ اپنی سابقہ قانونی حیثیت پر واپس آ جاتے ہیں، اکثر وہ مستقل رہائشی (Permanent Residents) بن جاتے ہیں اور وہ امریکی شہریت سے حاصل ہونے والے تمام قانونی فوائد کھو دیتے ہیں، جس میں ملک بدری سے تحفظ بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں